لنڈی کوتل میں قائم افغان ہولڈنگ کیمپ میں افغان مہاجرین سے جعلی ٹوکن کے ذریعے رقم بٹورنے والے گروہ کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایرانی ریال کی مانگ کیوں بڑھ رہی ہے؟ اصل حقیقت سامنے آگئی
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر کی خصوصی ہدایت پر ایس ایچ او لنڈی کوتل عشرت شینواری نے کارروائی کرتے ہوئے افغان مہاجرین کو رجسٹریشن اور واپسی کے عمل کے نام پر جعلی ٹوکن دینے اور رقم وصول کرنے والے گروہ کو بے نقاب کیا۔
کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے ملزمان میں نعمت، سودیس ولد زورہ میر شینواری سکنہ خوگہ خیل اور نہال ولد اختر خان شینواری سکنہ خوگہ خیل شامل ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
ایس ایچ او کے مطابق کیمپ میں موجود ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی جو سادہ لوح اور مجبور مہاجرین کو دھوکہ دے کر رقم بٹورتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن اور واپسی کا عمل مکمل طور پر سرکاری طریقہ کار کے تحت شفاف انداز میں جاری ہے اور اس میں کسی قسم کی رشوت یا غیر قانونی وصولی کی کوئی گنجائش نہیں۔
پولیس نے افغان مہاجرین سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر متعلقہ فرد کے جھانسے میں نہ آئیں، اپنی باری کا انتظار کریں اور کسی کو بھی رقم نہ دیں۔ اگر کوئی شخص رقم کا مطالبہ کرے تو فوری طور پر قریبی پولیس کو اطلاع دی جائے۔
یاد رہے کہ کچھ روز قبل بھی لنڈی کوتل اور افغان ہولڈنگ کیمپ میں جعلسازی اور غیر قانونی رقم وصولی کے متعدد واقعات سامنے آئے تھے، جن میں مزید گرفتاریاں بھی کی گئی تھیں۔
