حالیہ دنوں تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایک بار پھر خبروں کا مرکز بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
ایک طرف عالمی سیاست کے پیچیدہ معاملات ہیں اور دوسری جانب امریکہ کی بدلتی ہوئی سیاسی سمت، جس کی نئی علامت وینس کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ ایک ایسا فرد جس کا بچپن غربت، منشیات اور گھریلو عدم استحکام میں گزرا، آج دنیا کی بڑی طاقت کے نائب صدر کے منصب تک پہنچ چکا ہے۔
وینس کی زندگی کی کہانی ان کی معروف کتاب Hillbilly Elegy میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ یہ داستان ایک بکھرے ہوئے خاندانی پس منظر سے شروع ہو کر غیر معمولی کامیابی تک پہنچنے کا سفر ہے۔
جے ڈی وینس، جن کا اصل نام جیمز ڈیوڈ وینس ہے، 2 اگست 1984 کو امریکی ریاست اوہائیو کے صنعتی شہر مڈل ٹاؤن میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان کینٹکی کے پہاڑی علاقے ایپلیچیا سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوا تھا، جو محنت کش طبقے اور کوئلے کی کانوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔
اپنی کتاب میں وینس ایپلیچیا کے معاشرتی تضادات کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وہاں کے لوگ غیرت مند اور خاندانی وابستگی کے حامل ہوتے ہیں، مگر ساتھ ہی ایک گہری سماجی و نفسیاتی محرومی بھی موجود ہے، جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔
وینس کا بچپن عدم استحکام کا شکار رہا۔ ان کے والد بچپن میں ہی انہیں چھوڑ گئے، جبکہ والدہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو گئیں اور ان کی ازدواجی زندگی بھی مسلسل تبدیل ہوتی رہی۔ اس ماحول نے گھر کو غیر محفوظ بنا دیا۔
کتاب میں بیان کردہ ایک واقعہ ان کے بچپن کے خوف اور ذہنی دباؤ کو واضح کرتا ہے۔ وینس لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کی والدہ نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہی تھیں اور انہوں نے گاڑی ٹکرا کر خودکشی کی دھمکی دی۔
اس خوفناک صورتحال میں وینس نے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا کر جان بچائی اور مدد حاصل کی۔ یہ واقعہ ان کی نفسیاتی تشکیل میں اہم ثابت ہوا۔
ان کی تربیت میں ان کی نانی، جنہیں وہ "ماماو" کہتے تھے، نے کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ ایک سخت مزاج مگر مضبوط شخصیت کی حامل خاتون تھیں، جنہوں نے مشکل حالات میں وینس کو سہارا دیا اور انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔
وینس کی کامیابی میں سخت محنت کا نمایاں کردار ہے۔ ییل لا اسکول میں داخلے سے قبل انہوں نے ایک ٹائلوں کے گودام میں مزدوری کی، جہاں روزانہ بھاری سامان اٹھانا ان کی ذمہ داری تھی۔
اس تجربے نے نہ صرف ان کی جسمانی برداشت کو بڑھایا بلکہ انہیں معاشرتی رویوں کو سمجھنے کا موقع بھی دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ بعض نوجوان معاشی مشکلات کے باوجود محنت سے گریز کرتے تھے، جو ایک وسیع سماجی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے۔
زندگی کا ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب وینس نے امریکی میرین کور میں شمولیت اختیار کی۔ عراق میں تعیناتی کے دوران سخت حالات اور خطرات نے ان کی شخصیت کو مضبوط بنایا اور ان میں خود اعتمادی پیدا کی۔ یہی تجربہ انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے تیار کرنے میں معاون ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں وہ ییل یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوئے۔
سیاست میں وینس کا داخلہ غیر معمولی تھا۔ ابتدا میں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد تھے۔ 2016 میں انہوں نے نجی اور عوامی سطح پر ٹرمپ پر شدید تنقید کی، حتیٰ کہ انہیں سخت الفاظ میں مخاطب کیا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ان کے مؤقف میں تبدیلی آئی۔
2021 میں سینیٹ کا انتخاب لڑنے کے دوران وینس نے اپنے سابقہ بیانات پر معذرت کی اور ٹرمپ کی حمایت اختیار کی۔ ان کے مطابق ٹرمپ کی پالیسیوں نے محنت کش طبقے کے مسائل کو اجاگر کیا، جس سے وہ متاثر ہوئے۔ یہی حمایت انہیں 2022 میں سینیٹر منتخب کروانے اور بعد ازاں نائب صدر کے منصب تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوئی۔
ذاتی زندگی میں وینس اپنی اہلیہ اوشا چلوکوری وینس کو اپنی کامیابی کا اہم ستون قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اوشا نے انہیں وہ جذباتی استحکام فراہم کیا جو انہیں بچپن میں میسر نہ تھا۔ ایک غیر مستحکم ماحول سے نکل کر ایک متوازن خاندانی زندگی قائم کرنا ان کی بڑی ذاتی کامیابیوں میں شامل ہے۔
وینس نے سماجی سطح پر منشیات کے خاتمے، خاندانی استحکام اور محنت کش طبقے کی معاشی بہتری جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز رکھی۔ یہی عوامل ان کی عوامی مقبولیت اور سیاسی سفر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ کہانی نہ صرف ایک فرد کی کامیابی کا سفر ہے بلکہ امریکی معاشرے کے ایک پیچیدہ پہلو کی عکاسی بھی کرتی ہے، جہاں مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کے امکانات موجود رہتے ہیں۔
