کہتے ہیں عشق کے آگے حسن بھی ہار جاتا ہے۔ واقعی، عشق ایک ایسی دولت ہے جس میں دل کا سکون چھپا ہوتا ہے۔ یہ نہ چہرہ دیکھتا ہے، نہ عمر، نہ دولت، نہ غربت، نہ ذات پات اور نہ ہی سماجی رتبہ۔ 

 

جب عشق ہو جائے تو بس دل کی دنیا آباد ہو جاتی ہے۔ محبت کو صدیوں سے ایک ایسی قوت سمجھا گیا ہے جو ہر ظاہری فرق کو مٹا دیتی ہے اور انسان کو اندر سے خوبصورت بنا دیتی ہے۔

 

حال ہی میں 60 سالہ حکیم بابر کی اپنے سے کم عمر لڑکی سے شادی سوشل میڈیا اور محفلوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ ہر طرف رائے دی جا رہی ہے: کچھ لوگ اسے دو دلوں کا ذاتی فیصلہ قرار دیتے ہیں، تو کچھ شدید تنقید کر رہے ہیں۔

 

خود حکیم بابر کا کہنا ہے کہ انہوں نے محبت کو پسند کیا، پھر اظہار کیا اور آخر کار نکاح کے ذریعے اس رشتے کو باعزت شکل دی۔ ان کا موقف ہے کہ اسلام پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے اور نکاح کو آسان بنانا چاہیے تاکہ معاشرے میں پاکیزہ تعلقات کو فروغ ملے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر دو بالغ افراد باہمی رضامندی سے نکاح کریں تو کسی تیسرے کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔

 

یہ بھی پڑھیے: “جیل مردوں کی طرح کاٹی جاتی ہے”

 

مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ نہیں کہ کوئی رشتہ جائز ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہر جائز چیز معاشرتی طور پر موزوں بھی ہوتی ہے؟ میاں بیوی کی عمروں میں بہت زیادہ فرق بعض اوقات ذہنی ہم آہنگی، زندگی کے تقاضوں اور مستقبل کی ذمہ داریوں کے حوالے سے سوالات پیدا کر دیتا ہے۔

 

 نکاح صرف وقتی جذبے کا نام نہیں بلکہ طویل رفاقت، مشترکہ جدوجہد اور نسل کی پرورش جیسی بڑی ذمہ داریوں کا عہد بھی ہے۔

 

تاہم، کسی بھی جوڑے کی نیت پر طنز کرنا مناسب نہیں۔ اگر دو بالغ افراد سمجھ بوجھ کے ساتھ فیصلہ کریں اور ان کے درمیان احترام اور رضامندی ہو تو ان کی خوشی کے لیے دعا دی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے معاملات کو بطور مثالی نمونہ پیش کرنے کے بجائے ان کے تمام پہلوؤں پر متوازن گفتگو کی جائے۔

 

آخرکار، محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے اور نکاح ایک مقدس بندھن۔ مگر ہر خوبصورتی کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے۔ ہمیں نہ اندھی حمایت کرنی چاہیے اور نہ اندھی مخالفت، بلکہ اعتدال، شعور اور سنجیدگی کے ساتھ ہر معاملے کو دیکھنا چاہیے۔ یہی ایک صحت مند اور سمجھدار معاشرے کی علامت ہے۔