سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور، سے سیکیورٹی واپس لیے جانے کا معاملہ اس وقت ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ یہ تنازع صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جو براہِ راست پی ٹی آئی کے اندر نظر آ رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق دو روز قبل رات گئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ سابق وزیراعلیٰ کے ساتھ موجود کچھ سیکیورٹی اہلکار اور گاڑی واپس لی جائیں۔ تاہم موقف یہ سامنے آیا کہ اصل ضرورت ایک جیمر کی تھی، کیونکہ موجودہ وزیراعلیٰ کی گاڑی کا جیمر مکمل طور پر فعال نہیں تھا۔
اسی تناظر میں علی امین گنڈاپور کے زیرِ استعمال پروٹوکول میں شامل وسائل کی واپسی کا کہا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے ساتھ 14 اہلکار ایک ڈبل کیبن گاڑی کے ساتھ تعینات تھے، جو ریگولر پولیس نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پول کی سیکیورٹی کا حصہ تھے۔
علی امین گنڈاپور کے مطابق وزیر اعلیٰ کے ڈپٹی سی ایس او کی جانب سے اہلکاروں کو “کلوز لائن” ہونے کی ہدایت دی گئی، جس کے بعد وہ واپس چلے گئے۔ اسی فیصلے کا اطلاق علی امین گنڈاپور کے بھائی اور رکن قومی اسمبلی، فیصل امین گنڈاپور، کی سیکیورٹی پر تعینات دو اہلکاروں پر بھی ہوا، یوں مجموعی طور پر 16 افراد کی واپسی کی بات سامنے آئی۔
دونوں جانب سے متضاد موقف
موجودہ وزیراعلیٰ، سہیل افریدی، نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ انہوں نے کسی کی سیکیورٹی واپس لینے کی ہدایت دی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ یہ ان کی پالیسی ہے اور نہ وہ ایسا کریں گے۔ دوسری جانب، علی امین گنڈاپور نے تصدیق کی کہ ان سے سیکیورٹی واپس لی گئی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سیکیورٹی دوبارہ دی بھی جائے تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔
دوسری جانب، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر پولیس لائن ڈی آئی خان کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا کہ سابق وزیراعلیٰ کے بنگلے پر مجموعی طور پر 77 اہلکار تعینات ہیں۔
ان میں ایف آر پی (فرنٹیئر ریزرو پولیس)، سیکیورٹی ونگ، ایف سی اور دیگر اسٹاف شامل ہیں۔ ایک انسپکٹر، ایک سب انسپکٹر، دو ہیڈ کانسٹیبل اور درجنوں کانسٹیبل بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
تاہم سابق وزیراعلیٰ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ مکمل سیکیورٹی صرف ان کی ذاتی رہائش کے لیے نہیں بلکہ اطراف میں قائم ناکوں اور چوکیوں کو بھی شامل کر کے بتائی گئی ہے۔ ان کے مطابق اصل تنازعہ ان 14 اہلکاروں کا ہے جو براہِ راست سفر کے دوران ساتھ ہوتے تھے اور شفٹ سسٹم کے تحت ڈیوٹی دیتے تھے۔
تنازع کی نوعیت: انتظامی یا سیاسی؟
بظاہر یہ معاملہ ایک انتظامی فیصلہ دکھائی دیتا ہے، مگر اندرونی اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں کے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے۔ پارٹی کے اندر پارلیمنٹیرینز کے گروپ میں بھی یہ مسئلہ زیرِ بحث آیا۔
ایک قریبی رکن قومی اسمبلی نے دونوں کے درمیان غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی اور موقف اختیار کیا کہ یہ اقدام آئی جی یا بیوروکریسی کی سطح پر ہوا، نہ کہ سیاسی قیادت کی ہدایت پر۔ تاہم علی امین گنڈاپور کا موقف یہ رہا کہ چونکہ رابطہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے ذریعے ہوا، اس لیے ذمہ داری سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ یہ نقطہ اختلاف اب ذاتی اعتماد کے مسئلے کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں قیادت کی سطح پر اس نوعیت کا تنازع پارٹی کے اندر تقسیم کا تاثر دے رہا ہے، اگرچہ باضابطہ طور پر معاملہ “خاموش” قرار دیا جا رہا ہے، لیکن بیانات کی سختی اور باہمی شکوک اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اختلاف مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ موجودہ وزیراعلیٰ کا موقف ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی واپس لینے کی کوئی ہدایت نہیں دی، جبکہ سابق وزیراعلیٰ اسے عملی اقدام قرار دے رہے ہیں۔
حقیقت شاید ان دونوں بیانیوں کے درمیان کہیں موجود ہو، لیکن یہ واضح ہے کہ معاملہ محض سیکیورٹی کا نہیں بلکہ سیاسی اعتماد اور اختیار کی حد بندی کا بھی ہے۔
