آر ٹی آئی یعنی حقِ معلومات کا قانون اس مقصد کے تحت نافذ کیا گیا کہ سرکاری اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ سرکاری معاملات، ترقیاتی فنڈز، بھرتیوں اور پالیسی فیصلوں سے متعلق مستند معلومات حاصل کر سکیں۔

 

 پاکستان میں وفاقی سطح پر رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 جبکہ خیبر پختونخوا میں خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت شہریوں کو قانونی طور پر معلومات طلب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

 

 اس قانون کے ذریعے نہ صرف بدعنوانی کی روک تھام میں مدد ملتی ہے بلکہ عام شہری، صحافی اور سماجی کارکن حکومتی اقدامات کی نگرانی کر کے نظام کو زیادہ شفاف، جوابدہ اور عوام دوست بنانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے:  "تمہارا ٹھکانہ باچا خان چوک ہوگا" چارسدہ میں صحافیوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں، ایف آئی آر اب تک کیوں درج نہیں ہوئی؟

 

لیکن عملی طور پر صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ بیشتر سرکاری محکموں میں نہ تو باقاعدہ انفارمیشن آفیسر تعینات ہیں اور نہ ہی پبلک ریلیشن کا مؤثر نظام موجود ہے۔ آر ٹی آئی درخواستوں پر غیر ضروری تاخیر، مکمل خاموشی یا ادھوری معلومات کی فراہمی معمول بن چکی ہے۔ بعض مواقع پر صحافیوں پر غیر اعلانیہ دباؤ ڈالنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے قانون کی روح متاثر ہو رہی ہے۔

 

خیبرپختونخوا کے سینئر اور تفتیشی صحافی لحاز علی کے مطابق نئی ضم شدہ اضلاع میں معلومات تک رسائی کی سب سے بڑی رکاوٹ مقامی انتظامی افسران ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معلومات فراہم نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ وہاں کی غیر فعال سرکاری مشینری اور پرانا روایتی نظام ہے، جو شفافیت اور جوابدہی کے بجائے ٹال مٹول پر مبنی ہے۔

 

لحاز علی مزید بتاتے ہیں کہ انفارمیشن آفیسر کا نہ ہونا بذاتِ خود سب سے بڑی رکاوٹ نہیں، کیونکہ متعلقہ محکمے کا سربراہ معلومات فراہم کر سکتا ہے، لیکن اکثر وہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں یا کسی سفارش یا دباؤ کے تحت معلومات دیتے ہیں اور اگر معلومات فراہم بھی کی جائیں تو وہ مکمل یا واضح نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق آئین میں معلومات تک رسائی کا حق موجود ہے، مگر اس پر مؤثر عملدرآمد ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

 

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی میاں ارشد علی نے بتایا کہ باجوڑ میں ان کا صحافتی تجربہ خاصا تلخ رہا ہے۔ ان کے بقول وہاں بعض سرکاری افسران معلومات دینے کے بجائے الٹا صحافیوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

 انہوں نے چار سے پانچ بار آر ٹی آئی درخواستیں جمع کرائیں، مگر معلومات یا تو کمیشن میں اپیل کے بعد ملیں یا بار بار دفاتر جا کر حاصل کرنا پڑیں۔

 

اسی طرح شمال ریڈیو سے وابستہ صحافی وحید تاجک کے مطابق زیادہ تر قبائلی اضلاع کے محکمے آر ٹی آئی قانون سے مکمل طور پر واقف نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں یہ صورتحال ضم شدہ نظام کی ناکافی تیاری کا نتیجہ ہے۔ 

 

بیشتر محکموں میں نہ تو پبلک انفارمیشن آفیسر موجود ہے اور نہ ہی پبلک ریلیشن آفیسر جس کے باعث معلومات تک رسائی میں لاعلمی اور ہچکچاہٹ دیکھی جاتی ہے۔

 

دوسری جانب سرکاری محکموں کا مؤقف ہے کہ آر ٹی آئی قانون کے تحت تمام افسران معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔

 

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) قانون کے باوجود اس کے مؤثر نفاذ کے لیے مضبوط انتظامی ڈھانچہ، تربیت یافتہ افسران اور فعال معلوماتی نظام ناگزیر ہیں۔

 

سوال اب بھی برقرار ہے: کیا باجوڑ اور دیگر ضم شدہ اضلاع میں آر ٹی آئی واقعی عوام اور صحافیوں کو بااختیار بنا رہا ہے، یا یہ قانون محض کاغذوں اور فائلوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؟ اس سوال کا واضح جواب تاحال سامنے نہیں آ سکا۔