کیا پولیس کا اصل کام عوام کی حفاظت اور ان کے حقوق و تحفظ کو یقینی بنانا ہے، یا ان پر بلا ضرورت سماجی پابندیاں عائد کرنا؟

 

چند دن پہلے صوابی کے ایک ایس ایچ او عبد العلی نے کھلی کچہری میں کہا کہ علاقے کی خواتین بغیر محرم کے بازار نہ جائیں اور کالج کے باہر بھائی، والد یا شوہر کے علاوہ کسی بھی فرد کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مگر پاکستان ایک آئینی ملک ہے اور ہمارا قانون ہر شہری کو ذاتی آزادی، سماجی طرزِ زندگی اور ثقافتی رسومات اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

 

 پولیس افسران کا کام جرم روکنا، امن قائم رکھنا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ کسی مذہبی یا سماجی طرزِ عمل پر ذاتی احکامات دینا۔ ایسے بیانات معاشرے میں غیر ضروری خوف پیدا کرتے ہیں اور خواتین کے بنیادی حقوق پر  براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔

 

آرٹیکل 8 کہتا ہے کہ کوئی بھی اقدام اگر بنیادی حقوق کے خلاف ہو تو وہ کالعدم ہوگا۔ آرٹیکل 15 اور 25 کے مطابق ہر شہری، بشمول خواتین، کا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق روزمرہ زندگی گزارے۔

 

 پولیس آرڈر 2002 اور صوبائی پولیس ایکٹس پولیس کو امن قائم رکھنے کا اختیار دیتے ہیں، مگر انہیں خود سے سماجی یا اخلاقی قوانین بنانے کا اختیار نہیں ہے۔ پولیس افسران ریاست کے نمائندے ہیں جو قانون نافذ کرتے ہیں، نہ کہ ذاتی رائے کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے:  صوابی: افغان وزیر دفاع کی تصویر پروفائل پر لگانے پر ایس ایچ او عبدالعلی عہدے سے ہٹادیے گئے

 

جرم کو ختم کرنے کے بجائے لوگوں پر پابندیاں لگانا اور یہ توقع رکھنا کہ وہ خاموشی سے ان پابندیوں کی پیروی کریں گے، نہ صرف غیر عملی بلکہ ممکن نہیں ہے۔ فرض کریں کسی گھر میں والد، بھائی یا کوئی محرم مرد موجود نہ ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خاتون تعلیم حاصل نہ کرے، کام نہ کرے یا روزمرہ کے ضروری کام انجام نہ دے؟ یہ خواتین کی ترقی، تعلیم اور خودمختاری کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہر فرد کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے، اور معاشرتی رکاوٹیں اس حق کو محدود نہیں کر سکتیں۔

 

ایسے احکامات خواتین کے مستقبل اور معاشرتی کردار پر دیرپا اثر ڈال سکتے ہیں۔ آزادی اور خود مختاری کی کمی سے خواتین اپنی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کر پاتیں، ان کا اعتماد کمزور ہوتا ہے، اور وہ معاشرتی اور اقتصادی ترقی میں اپنا مکمل حصہ نہیں ڈال پاتیں۔

 

 اس کے علاوہ خواتین کی ذہنی اور نفسیاتی حالت بھی متاثر ہوتی ہے۔ خوف، دباؤ اور محدود مواقع ان کے اعتماد اور خود اعتمادی کو کم کرتے ہیں، جس کا اثر طویل مدت میں ان کی زندگی اور مستقبل پر پڑتا ہے۔

 

ایک ترقی یافتہ معاشرہ وہ ہے جو خواتین کو ان کے حقوق، حفاظت اور آزادانہ انتخاب کے مواقع دے، نہ کہ ایسے غیر قانونی اور محدود کرنے والے احکامات دے جو انہیں گھر تک محدود کر دیں۔ 

 

 پولیس کا  کام معاشرتی جرائم روکنا اور امن قائم رکھنا ہے، نہ کہ خواتین کے روزمرہ معمولات اور انتخاب پر پابندیاں لگانا۔ خواتین کے حقوق کا تحفظ ہر شہری اور ریاست کی ذمہ داری ہے، اور یہ معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔