خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا ہنی مون پیریڈ اب باقاعدہ طور پر ختم ہو چکا ہے۔ ابتدا میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ ان کے لیے سیاسی قبولیت کا یہ دورانیہ دو ماہ سے زیادہ نہیں ہوگا، مگر انہوں نے پارٹی کو وقتی طور پر متحرک رکھا، کارکنوں کو جوڑے رکھا اور سوشل میڈیا کی ابتدائی حمایت نے ان کے لیے فضا سازگار بنائے رکھی۔ یوں یہ عرصہ چار ماہ تک پھیل گیا۔ تاہم اب وہ مرحلہ گزر چکا ہے اور اس کے بعد کی سیاست نے انہیں ایک ایسی صورتِ حال میں لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ بیک وقت کئی محاذوں پر تقریباً تنہا دکھائی دیتے ہیں۔
اندرونی جماعتی اختلافات
سب سے پہلا محاذ ان کی اپنی جماعت کے اندر ہے۔ پارٹی اس وقت واضح طور پر دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اگرچہ علیمہ خان کی حمایت انہیں حاصل ہے اور وہ ان کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں نظر آتے ہیں، مگر یہی وابستگی پارٹی کے ایک بڑے حصے کی ناراضی کا سبب بھی بن چکی ہے۔ جو عناصر علیمہ خان سے اختلاف رکھتے ہیں، وہ سہیل آفریدی کو بھی اسی خانے میں رکھتے ہیں۔ نتیجتاً وہ داخلی طور پر ایک ایسے ماحول میں کام کر رہے ہیں جہاں اتحاد کی فضا کمزور اور مزاحمت کی فضا مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔
وفاقی حکومت سے کشیدگی
دوسرا محاذ وفاقی حکومت کا ہے۔ وفاق کے ساتھ ان کے تعلقات نہ تو پرانے ہیں اور نہ ہی ذاتی روابط پر مبنی۔ یہی وجہ ہے کہ مرکز کے ساتھ معاملات میں انہیں وہ لچک اور سہولت حاصل نہیں جو بعض سابق وزرائے اعلیٰ کو میسر رہی۔ بیوروکریسی اور پولیس کے معاملات میں بھی انہیں مکمل گرفت حاصل نہیں ہو سکی۔ وفاق جو اقدامات کرنا چاہتا ہے، نسبتاً آسانی سے کر لیتا ہے، جبکہ صوبائی حکومت اکثر ردعمل کی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے۔ اس عدم توازن نے سہیل آفریدی کو دفاعی حکمتِ عملی تک محدود کر دیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ اور سیکیورٹی صورتحال
تیسرا اور نہایت حساس محاذ اسٹیبلشمنٹ اور سیکیورٹی کی صورتحال ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں آپریشنز جاری ہیں۔ کرم اور تیراہ جیسے خطوں سے بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ ڈرون حملوں اور دہشت گردی کے واقعات نے فضا کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جنوبی اضلاع میں ریاستی رِٹ کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں وزیر اعلیٰ کا کردار نہایت نازک ہو جاتا ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ سے فاصلہ رکھیں تو کمزوری کا تاثر پیدا ہوتا ہے، اور قریب جائیں تو سیاسی مخالفت ایک نیا محاذ کھول دیتی ہے۔ یہ توازن قائم کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہے۔
تجربے کا فقدان
ان تمام چیلنجز کے ساتھ ایک بنیادی مسئلہ تجربے کا بھی ہے۔ یہاں تقابل ناگزیر طور پر علی امین گنڈاپور سے ہوتا ہے، جو پانچ سال صوبائی اور ساڑھے تین سال وفاقی کابینہ کا حصہ رہے ہیں۔ انتظامی معاملات، طاقت کے مراکز سے روابط اور سیاسی اتار چڑھاؤ کا تجربہ انہیں حاصل تھا۔ سہیل آفریدی کے پاس ایسا پس منظر موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوست اور مخالف کی تمیز، طاقت کے توازن کو سمجھنا اور فوری فیصلوں کے مضمرات کا اندازہ لگانا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔ بعض اوقات جو لوگ قریبی ساتھی دکھائی دیتے ہیں، وہی سیاسی نقصان کا سبب بن جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا کا نیا محاذ
ایک اور اہم محاذ سوشل میڈیا کا ہے۔ پہلی مرتبہ تحریک انصاف کا ڈیجیٹل حلقہ واضح تقسیم کا شکار نظر آتا ہے۔ اگرچہ جماعت کے آفیشل اکاؤنٹس اور مرکزی قیادت کی سطح پر حمایت موجود ہے، مگر گراس روٹ سوشل میڈیا کارکنوں کا ایک بڑا حصہ تنقیدی رویہ اختیار کر چکا ہے۔ یہ تبدیلی معمولی نہیں، کیونکہ حالیہ برسوں میں بیانیہ سازی کا بڑا ذریعہ یہی پلیٹ فارم رہا ہے۔ جب کارکن خود سوال اٹھانے لگیں تو قیادت کی تنہائی اور نمایاں ہو جاتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سہیل آفریدی اس وقت ایسے سیاسی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں حمایت کے حلقے محدود اور مخالفت کے دائرے وسیع ہو رہے ہیں۔ داخلی اختلافات، وفاقی کشیدگی، سیکیورٹی چیلنجز، تجربے کی کمی اور سوشل میڈیا کی تقسیم—یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا حصار بنا رہے ہیں جس میں وہ بیک وقت کئی سمتوں سے دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہنی مون پیریڈ کے خاتمے کے بعد اب اصل امتحان شروع ہوا ہے، اور اس امتحان میں سب سے نمایاں پہلو ان کی بڑھتی ہوئی سیاسی تنہائی ہے۔
