چار سدہ کی تحصیل تنگی کے علاقے اسٹیشن کلی میں ایک مدرسے کے 14 سالہ طالب علم کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ایک ملزم، قاری بلال، کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم قاری اجمل کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
متاثرہ بچے کے والدین کے مطابق واقعہ تقریباً پانچ روز قبل پیش آیا۔ بچے نے اپنے بیان میں بتایا کہ 17 فروری 2026 کو وہ معمول کے مطابق مدرسہ گیا تھا۔ چھٹی کے بعد قاری بلال نے اسے اپنے کمرے میں بلایا جہاں قاری اجمل بھی موجود تھا۔
بیان کے مطابق دروازہ بند کر کے اس کے ساتھ بدفعلی کی گئی اور مبینہ طور پر تصاویر بھی بنائی گئیں۔ بعد میں بچے کو دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو یہ مواد سوشل میڈیا پر لیک کر دیا جائے گا۔
اہلِ خانہ کے مطابق بچہ خوف اور دباؤ کی وجہ سے چند روز تک خاموش رہا۔ بعد ازاں مبینہ تصاویر ملزمان کے موبائل فون سے نکل کر بیرونِ ملک مقیم ایک رشتہ دار تک پہنچ گئیں، جس پر خاندان کو واقعے کا علم ہوا اور معاملہ منظرِ عام پر آ گیا، جس کے بعد تھانہ تنگی میں رپورٹ درج کرائی گئی۔ والدین نے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 376، 377، 292، 109 اور بچوں کے تحفظ و بہبود ایکٹ 2010 کی دفعہ 53 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ قاری بلال کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ قاری اجمل کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
واقعہ مدرسہ ابو ہریرہ شڑو میاں صاحب کورونا میں پیش آنے کا بتایا گیا ہے۔ مقامی افراد نے بچوں کے تحفظ سے متعلق مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
تحصیل تنگی میں اس سے قبل بھی ایک کمسن بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد قتل کا واقعہ پیش آ چکا ہے۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، تاہم ان پر مکمل اور مؤثر عمل نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کے خلاف جرائم میں واضح کمی نہیں آ سکی۔
ماہرین کے مطابق قانون میں کمزوریاں، درست تفتیش نہ ہونا اور معاشرتی رویے ایسے مقدمات کو انجام تک پہنچنے سے روکتے ہیں، جس سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے سماجی کارکن عمران ٹکر کے مطابق والدین کی لاپرواہی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی مواقع پر بچوں کو بغیر نگرانی کے تعلیمی اداروں یا دیگر مقامات پر بھیج دیا جاتا ہے، جبکہ ان کی سرگرمیوں اور اردگرد کے ماحول پر مناسب توجہ نہیں دی جاتی۔
انہوں نے زور دیا کہ بچوں کی درست تربیت اور رہنمائی ضروری ہے۔ اگر بچے مدرسے یا اسکول جاتے ہیں تو والدین کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے ان کی حاضری، تعلیمی ماحول اور اساتذہ سے رابطہ رکھیں۔
عمران ٹکر کا کہنا ہے کہ بچوں کو ذاتی حدود سے متعلق آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اعتماد کے ساتھ بچوں کو یہ سکھائیں کہ جسم کے کون سے حصوں کو کوئی نہیں چھو سکتا اور اگر کوئی نامناسب رویہ اختیار کرے تو فوراً گھر والوں کو بتائیں۔
ان کے مطابق ہمارے معاشرے میں اس موضوع پر بات کرنے سے کترایا جاتا ہے، جس کے باعث بچے ضروری آگاہی سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں بعض اوقات ملزمان عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ پولیس کی کمزور تفتیش اور شواہد درست طریقے سے جمع نہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ بعض خاندان سماجی دباؤ یا مجبوری کے تحت ملزمان سے سمجھوتا کر لیتے ہیں، جس سے انصاف کا عمل متاثر ہوتا ہے اور جرائم کی روک تھام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
غیر سرکاری تنظیم “ساحل” کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں متعدد واقعات میں بچوں کو قتل بھی کیا گیا۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل، بہتر تفتیش اور عوامی آگاہی کی مہمات ضروری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے، تعلیمی ادارے اور والدین اگر مل کر سنجیدہ اقدامات کریں تو بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے اور ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے۔
