ہمارے معاشرے میں طلاق آج بھی ایک ایسا موضوع ہے جس پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب بات عورت کی ہو۔ اگر کسی عورت کی شادی طلاق پر ختم ہو جائے تو سب سے پہلے اس کے کردار، اس کی سوچ اور اس کی نیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ لوگ حقیقت جانے بغیر یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ضرور عورت میں ہی کوئی کمی ہوگی، تب ہی طلاق ہوئی ہے۔
لیکن کیا واقعی ہر طلاق کی ذمہ دار عورت ہی ہوتی ہے؟کیا طلاق لینا کبھی مجبوری نہیں ہو سکتا؟کیا طلاق ہمیشہ عورت کی ہی غلطی ہوتی ہے؟
شادی دو افراد کے درمیان ایک رشتہ ہوتی ہے، جس میں دونوں کی سمجھ بوجھ، برداشت اور باہمی تعاون ضروری ہوتا ہے۔ یہ رشتہ صرف ایک فرد کے سہارے نہیں چل سکتا۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک بھی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو رشتہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔
بہت سی شادیاں اس لیے ٹوٹ جاتی ہیں کیونکہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پاتے۔ خیالات کا فرق، ایک دوسرے کو وقت نہ دینا، ایک دوسرے کی بات کو اہمیت نہ دینا، یا ایک دوسرے کی عزت نہ کرنا — یہ سب وہ وجوہات ہیں جو آہستہ آہستہ رشتے کو طلاق کی طرف لے جاتی ہیں۔مگر افسوس کہ ان تمام حقائق کے باوجود الزام صرف عورت کے حصے میں آتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اکثر عورتیں طلاق سے پہلے بہت کچھ برداشت کرتی ہیں۔ ذہنی دباؤ، طعنے، نظرانداز ہونا، بدسلوکی، تشدد اور بعض اوقات بے وفائی تک کو خاموشی سے سہتی رہتی ہیں۔ وہ گھر بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں، کیونکہ انہیں بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اگر طلاق ہو گئی تو معاشرہ انہیں جینے نہیں دے گا۔ وہ جانتی ہیں کہ طلاق کے بعد ان کے لیے زندگی اور بھی مشکل ہو جائے گی۔
مگر جب برداشت کی حد ختم ہو جاتی ہے، جب ساتھ رہنا ذہنی اور جسمانی اذیت بن جائے، تب طلاق کوئی شوق یا ضد نہیں رہتی بلکہ ایک مجبوری بن جاتی ہے۔
طلاق کے بعد عورت کی زندگی مزید کٹھن ہو جاتی ہے۔ اسے شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگ اس کے ماضی میں جھانکنے لگتے ہیں، اس کے کردار پر باتیں بنانے لگتے ہیں۔ بعض لوگ تو اس عوت سے بات کرتے ہوئے بھی محتاط ہو جاتے ہیں، جیسے وہ کوئی خطرناک انسان ہو۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ عورت پہلے سے زیادہ ٹوٹی ہوئی، زیادہ حساس اور نازک مرحلے سے گزر رہی ہوتی ہے۔ اسے نفرت نہیں بلکہ ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسے الزام نہیں بلکہ سہارا چاہیے ہوتا ہے۔ اسے ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے سمجھنے کی کوشش کریں، جو اس کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے مرہم رکھیں۔
رشتوں کے معاملے میں طلاق یافتہ عورت کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ صاف لفظوں میں کہہ دیتے ہیں کہ ہم طلاق یافتہ عورت سے رشتہ نہیں کریں گے۔ اور اگر کوئی رشتہ آئے بھی تو اس کے ساتھ شک، طعنے اور غیر ضرور شرائط جڑی ہوتی ہیں۔اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے“پتہ نہیں اس عورت نے کیا غلط کیا ہوگا، تب ہی طلاق ہوئی ہوگی۔”
جیسے طلاق یافتہ ہونا کوئی جرم ہو، کوئی گناہ ہو۔ کوئی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتا کہ شاید اس عورت کی پہلی شادی میں اس کا کوئی قصور نہ ہو، یا شاید وہ حالات کی ماری ہوئی ہو۔
اس کے برعکس اگر کسی مرد کی طلاق ہو جائے تو معاشرہ اسے بآسانی قبول کر لیتا ہے۔ اس کی دوسری شادی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا۔ بلکہ اکثر یہ کہا جاتا ہے:“بیچارہ، اس کی بیوی اچھی نہیں ہوگی۔”
یعنی یہاں بھی قصور آخرکار عورت ہی کا ٹھہرتا ہے، چاہے طلاق کسی کی بھی ہو۔ یہی دوہرا معیار ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طلاق ہمیشہ غلطی کی نشانی نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات یہ ایک غلط رشتے سے نکلنے کا واحد راستہ ہوتی ہے۔ اگر دو لوگ ایک دوسرے کے لیے ذہنی سکون کا سبب نہ بن سکیں تو ایسی شادی کو زبردستی چلانا پوری زندگی برباد کر سکتا ہے۔ ایک عورت کا طلاق لینا اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی ہمت، اس کے حوصلے اور اپنی عزتِ نفس کے لیے کھڑے ہونے کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
لہٰذا کسی طلاق یافتہ عورت کو کردار کی بنیاد پر پرکھنا نہ دینی طور پر درست ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر۔ہمیں بطور معاشرہ اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر طلاق کی کہانی الگ ہوتی ہے۔
ہمیں عورت کو الزام دینے کے بجائے حالات کو سمجھنا سیکھنا ہوگا۔ ایک طلاق یافتہ عورت بھی عزت، محبت اور ایک نئے آغاز کی حق دار ہے۔ اسے بھی اپنی زندگی جینے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ اسے بار بار اس کے ماضی کا احساس دلانا ظلم کے سوا کچھ نہیں۔
طلاق یافتہ عورت کو بری نظر سے دیکھنا ہماری تنگ نظری کی علامت ہے۔ عورت کمزور نہیں، کمزور ہماری سوچ ہے۔ اگر ہم واقعی انصاف، ہمدردی اور انسانیت پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں عورت اور مرد دونوں کو برابر سمجھنا ہوگا۔ طلاق کو داغ نہیں بلکہ ایک حقیقت ماننا ہوگا، تاکہ ہمارا معاشرہ مزید بگاڑ کے بجائے بہتری کی طرف بڑھ سکے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
