ہمارے معاشرے میں اپنی مرضی سے شادی کرنے والی عورت کو عزت کے بجائے ذلت اور عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے کردار پر بدچلنی کا داغ لگا کر اسے طعنوں، بے رحم رویّوں اور غیرت کے نام پر تشدد کے سائے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہی عمل اگر سرحد پار ہو جائے تو فوراً اسے “سچی محبت” اور “لو میرج کی بہترین مثال” قرار دیا جاتا ہے، گویا جگہ بدلتے ہی نیت، غیرت اور کردار کے پیمانے بھی بدل جاتے ہیں۔
اگر یہی محبت ہمارے معاشرے کی عورت کے لیے بھی اتنی ہی پاکیزہ اور قابلِ قبول سمجھی جاتی تو شاید غیرت کے نام پر قتل کے ہولناک اعداد و شمار جنم نہ لیتے اور آج ہماری عورتوں کی قبریں اس قدر خاموش نہ ہوتیں۔
پشتون معاشرہ اپنی روایات، اقدار، غیرت اور بالخصوص پردے کے تصور کے باعث جانا جاتا ہے۔ یہاں عورت کو خاندان کی عزت سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے اس کی زندگی کے بیشتر فیصلے وہ خود نہیں کرتی اور نہ ہی اسے کرنے دیے جاتے ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصول واقعی تمام عورتوں کے لیے یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: اچھا تمہارے خاندان کی لڑکی نے بھاگ کر شادی کر لی!
ایک سال قبل امریکہ سے تعلق رکھنے والی ایک عورت سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کے ضلع دیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ساجد زیب سے دوستی کے بعد پاکستان آئی اور ان سے شادی کی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد وہ واپس امریکہ چلی گئی، اور اب ایک سال گزرنے کے بعد دوبارہ اپنے شوہر سے ملنے دیر آئی ہے۔ اس موقع پر بنائی گئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔
آج کل یہ رجحان تیزی سے عام ہو رہا ہے کہ جب کوئی پشتون مرد کسی غیر ملکی عورت سے شادی کرتا ہے تو وہی مرد خود کو روشن خیال ثابت کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کو کیمرے کے سامنے لاتا ہے، ویڈیوز بناتا ہے، تصاویر شیئر کرتا ہے، انٹرویوز دیتا ہے اور اس رشتے کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس طرزِ عمل پر اسے ہر طرف سے داد بھی ملتی ہے۔
کچھ لوگ حیرت اور رشک کے ساتھ دیکھتے ہیں، کچھ مزاحاً کہتے ہیں کہ “ہمارے پیچھے تو قرض دار آتے ہیں، اور آپ کے پیچھے انگریزی لڑکیاں”، جبکہ بعض اسے قسمت کی بلندی قرار دیتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر یہی شادی کسی پشتون عورت سے ہو تو منظرنامہ یکسر بدل جاتا ہے۔ اس عورت کو پردے میں چھپا دیا جاتا ہے، اس کی شناخت مٹا دی جاتی ہے اور اس کی آواز، رائے اور موجودگی کو غیرت کے نام پر دبا دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ خوشی کے مواقع پر بھی اس کا سامنے آنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی غیر ملکی عورت کسی پاکستانی مرد سے شادی کرتی ہے تو اسے نہ صرف آسانی سے بلکہ خوش دلی کے ساتھ قبول کر لیا جاتا ہے، مگر جب ایک پشتون عورت اپنے قانونی اور آئینی حق کے تحت پسند کی شادی کرتی ہے تو اسے خاندان اور معاشرے دونوں کی جانب سے سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ قانون دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے، فرق صرف معاشرتی رویّے کا ہے، قانون کا نہیں۔
یہاں اصل مسئلہ پردہ نہیں بلکہ سوچ ہے۔ اگر پردہ واقعی ایک دینی یا ثقافتی قدر ہے تو پھر وہ غیر ملکی عورت کے لیے کیوں ضروری نہیں سمجھا جاتا؟ کیا وہ عورت نہیں؟ کیا اس سے اس مرد کی عزت اور غیرت پر کوئی اثر نہیں پڑتا؟ اور اگر آزادی قابلِ قبول ہے تو یہ آزادی پشتون عورت کے لیے کیوں ناقابلِ قبول ٹھہرتی ہے؟
یہی دوہرا معیار دراصل ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہی رویّہ معاشرے پر گہرے اور خطرناک اثرات مرتب کر رہا ہے اور ان روایات کو کمزور بنا رہا ہے جو کبھی انصاف، برابری اور وقار کی علامت سمجھی جاتی تھیں، مگر آج وقت کے ساتھ ساتھ منافقت کی مثال بنتی جا رہی ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
