وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بنیادی مراکز صحت کے لیے ڈاکٹرز کی 700 نئی آسامیوں کی تخلیق کا عمل ایک ہفتے میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی اور مقامی سطح پر صحت کے مراکز کو بہتر بنانا ضروری ہے تاکہ عوام کو علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے اور مقامی سطح پر ہی بہتر سہولیات میسر آئیں۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری کے دوسرے مرحلے (2.0) کا باضابطہ آغاز بھی کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں مزید 10 عوامی سہولت کے شعبے شامل کیے گئے ہیں، جن میں ہسپتال، کالجز، پانی کی فراہمی، صفائی، نکاسی آب، نہروں کی صفائی، سرکاری سرائے، تحصیل دفاتر، عوامی خدمت مراکز اور اضلاع کی خوبصورتی کے منصوبے شامل ہیں۔ ان تمام اقدامات کے لیے واضح اہداف اور مدت مقرر کی گئی ہے۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری کے پہلے مرحلے میں مجموعی کارکردگی 87 فیصد رہی، عوامی مسائل کے حل کی شرح میں 20 فیصد اضافہ ہوا، اور 70 فیصد شکایات حل کر لی گئی ہیں جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں سات شعبوں کے 19 عوامی خدمت کے شعبہ جات میں 1100 سے زائد سہولیات شامل کی گئیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے مجموعی طور پر 10 ارب روپے جاری کیے گئے، جن میں 4.4 ارب روپے مرمت و دیکھ بھال اور 5.6 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کیے گئے۔ تمام اضلاع کی جانب سے خوبصورتی کے منصوبے جمع کرا دیے گئے ہیں جبکہ بنیادی اور دیہی مراکز صحت کے لیے ڈاکٹرز کی 700 آسامیوں کی تخلیق آخری مراحل میں ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ممکنہ قدرتی آفات کے پیش نظر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے پیشگی ہنگامی انتظامات مرتب کر کے ضلعی انتظامیہ کو بروقت ارسال کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا مگر بہتر تیاری اور بروقت اقدامات سے نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے سیاحتی مقامات پر ہنگامی صورتحال میں فوری رابطے کا مؤثر نظام قائم کرنے اور بڑے روڈز پر اسٹریٹ لائٹس دو ہفتوں کے اندر فعال بنانے کی بھی ہدایت دی۔
یہ ہدایات وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت پانچویں ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ کانفرنس میں مختلف محکموں کی کارکردگی، عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور شکایات کے ازالے کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے دارالامانوں میں وارڈنز کی تعیناتی کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ سوات دارالامان کی عمارت جلد مکمل کی جائے جبکہ دیگر دارالامانوں کے لیے مستقل عمارتوں کے منصوبے الگ سے تیار کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مستحق طبقات کا تحفظ اور انہیں سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
