مردان میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ تیراہ آپریشن کا فیصلہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دورِ حکومت میں کیا گیا تھا، تاہم آج اس معاملے پر حقائق چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات مردان پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ سہیل آفریدی کو مفاہمت کے لیے نہیں بلکہ دباؤ اور ٹکراؤ کی پالیسی کے تحت لایا گیا، جس کے نتیجے میں معاملات میں بہتری کے بجائے مزید بگاڑ پیدا ہوا۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ تیراہ آپریشن اور پی ٹی آئی کے درمیان مفاہمت کے معاملات آپس میں جڑے ہوئے ہیں، لیکن اس حوالے سے قوم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر وزیراعلیٰ لاعلمی ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں دونوں لاعلمی کا دعویٰ کر رہی ہیں، حالانکہ حقیقت سب کے سامنے ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِعمل قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔

 

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ تیراہ کے معاملے پر کھل کر سیاست کی جا رہی ہے اور دہشت گردی جیسے حساس مسئلے پر سیاست فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔

 

 انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے حوالے سے آج تک کوئی متفقہ قومی بیانیہ تشکیل نہیں دیا جا سکا، جس کی وجہ سے مسائل مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔

 

امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ واضح اور جامع پلان نہ ہونے کے باعث پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

 

 انہوں نے خبردار کیا کہ ریاست کی رٹ کمزور پڑتی جا رہی ہے جبکہ دہشت گرد مضبوط ہو رہے ہیں، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ احتجاجی سیاست اور سٹریٹ موومنٹس کے باعث صوبے میں امن و امان کی صورتحال بری طرح متاثر ہوئی، جبکہ نو مئی جیسے واقعات نے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ مقبولیت اور قبولیت کے چکر میں ریاستی نظام کو نقصان پہنچایا گیا، جس کے منفی اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

 

سابق وزیراعلیٰ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تلخیوں اور محاذ آرائی کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا، تمام سیاسی اور ریاستی فریقین کو مل بیٹھ کر سنجیدگی سے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہوگا تاکہ ملک اور صوبہ دوبارہ امن و استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔