ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں شدید برفباری کے بعد ضلعی انتظامیہ، سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو 1122 نے مشترکہ کوششوں سے برف سے ڈھکی سڑکیں صاف کر کے ٹریفک بحال کر دی ہے، جس کے بعد متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات کی طرف روانگی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی تیراہ کے تقریباً 70 فیصد خاندان محفوظ علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ 30 فیصد خاندان خراب موسم کے باعث ابھی روانہ نہیں ہو سکے۔
انتظامیہ کے مطابق خراب موسم کے دوران مقامی مشران کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم سڑکیں کھلنے کے بعد کئی خاندان اپنے سامان کے ساتھ محفوظ مقامات کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے تیراہ، آدم خیل اور بھوٹان شریف کے علاقوں میں مشینری کے ذریعے برف ہٹا کر آمدورفت بحال کی۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مسلسل علاقے میں موجود ہیں اور برفباری کے باعث پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے گشت کر رہی ہیں۔ جن علاقوں میں لوگ برف کے باعث گھروں میں محصور ہیں، وہاں فلاحی اداروں اور مخیر حضرات کی جانب سے خوراک پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔
آج شلوبر نیبر ہوڈ کے چیئرمین محمد خان آفریدی کی جانب سے وادی تیراہ کے متاثرین کے لیے 300 خاندانوں کو خوراک پر مشتمل امدادی سامان روانہ کیا گیا۔
نادرا کے مطابق وادی تیراہ کے مجموعی طور پر 13 ہزار 725 خاندانوں کا اندراج مکمل کر لیا گیا ہے۔ نادرا کے رجسٹریشن مراکز میں پائندی چینہ سنٹر میں 8 ہزار 797 خاندانوں، قمبر آباد مارکیٹ باڑہ بازار سنٹر میں 1 ہزار 27 خاندانوں، کمرخیل اور آدم خیل کے مشترکہ سنٹر میں 911 خاندانوں، برقمبرخیل تکیہ سنٹر میں 1 ہزار 687 خاندانوں جبکہ ملک دین خیل بادشاہ خان کلے ناویہ سنٹر میں 1 ہزار 304 خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے، جن میں بائیومیٹرک تصدیق اور موبائل سمز کا اجرا بھی شامل ہے۔
دوسری جانب شدید برفباری کے باعث وادی تیراہ میں موجود لوگوں کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ انتظامیہ اور مختلف ادارے سڑکوں کی صفائی اور خوراک کی فراہمی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
