میں آج جس موضوع پر لکھ رہی ہوں، اس کی وجہ وہ آگاہی سیمینار ہے جس میں مجھے ماہواری کی صفائی اور روزمرہ خیال رکھنے کے بارے میں شرکت کا موقع ملا۔ اس سیمینار میں بچیوں کو ماہواری کے دوران پیش آنے والی مشکلات، صفائی کے درست طریقے اور اس موضوع پر معلومات کی کمی کے نقصانات کے بارے میں بتایا گیا۔ 

 

وہاں موجود دوسری بچیوں کی باتیں سن کر مجھے یہ بات اچھی طرح سمجھ آ گئی کہ ماہواری کا مسئلہ صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور سماجی بھی ہے۔ اسی دوران مجھے یہ احساس بھی ہوا کہ اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ماں اور بچی کے درمیان بات چیت کی کمی ہے، جس پر ہم اکثر توجہ نہیں دیتے۔

 

ہمارے معاشرے میں ماں اور بچی کا رشتہ محبت اور قربت پر مبنی ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود بہت سے گھروں میں اہم باتوں پر کھل کر گفتگو نہیں کی جاتی۔ خاص طور پر ماہواری جیسے موضوع پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے جیسے یہ کوئی راز ہو حالانکہ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ 

 

اسی سوچ کی وجہ سے ایک بچی اپنی ماں سے اس فطری عمل کے بارے میں بات کرنے سے جھجھکتی ہے۔ یہ فاصلہ اچانک پیدا نہیں ہوتا بلکہ وقت کے ساتھ خاموشی اور کم گفتگو کی وجہ سے بڑھتا جاتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں:  حکومت کا سینیٹری پیڈز پر18 فیصد ٹیکس،خواتین کی فطری ضرورت کو کاروبار سے جوڑ دیا گیا!

 

جب کسی بچی کو پہلی بار ماہواری آتی ہے تو وہ گھبراہٹ اور خوف محسوس کرتی ہے۔ اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے جسم میں کیا ہو رہا ہے اور یہ تبدیلی کیوں آ رہی ہے۔ ایسے وقت میں ماں کی رہنمائی بہت ضروری ہوتی ہے، مگر بات نہ ہونے کی وجہ سے بچی اکیلے ہی اس صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے، جو بعد میں مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

 

ماں کو نہ بتانے کی وجہ سے اکثر بچیوں کو صفائی کے درست طریقوں کی پوری معلومات نہیں ہوتیں۔ وہ یہ نہیں جانتیں کہ کن چیزوں کا استعمال محفوظ ہے اور کن چیزوں سے بچنا چاہیے۔ اکثر اندازوں سے کام لیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی تکلیف یا انفیکشن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

 

یہ مسئلہ اُس وقت اور زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب کسی بچی کو اسکول میں ماہواری آ جائے۔ اسکول کا ماحول پہلے ہی دباؤ والا ہوتا ہے، اور ایسی صورت میں یہ اضافی پریشانی بچی کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔

 

 اگر لباس خراب ہو جائے تو شدید شرمندگی محسوس ہوتی ہے، اور بعض اوقات منفی رویوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت مدد مانگنا بچی کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

 

چونکہ ہمارے معاشرے میں بہت سی مائیں اپنی بچیوں کو ماہواری کے بارے میں بروقت اور مکمل معلومات نہیں دیتیں، اس لیے اس خاموشی کے اثرات بچیوں کی ذہنی حالت پر بھی پڑتے ہیں۔ وہ خود کو اکیلا محسوس کرنے لگتی ہیں، ان کا اعتماد کم ہو جاتا ہے اور وہ مستقل خوف میں رہتی ہیں۔ یہ دباؤ وقت کے ساتھ ان کی شخصیت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

 

یہ بھی حقیقت ہے کہ پہلے زمانے میں اس موضوع پر نہ معلومات تھیں اور نہ سہولتیں۔ مائیں خود بھی ایسے ماحول میں پلی بڑھی تھیں جہاں ان باتوں پر گفتگو نہیں کی جاتی تھی۔ اس دور میں خاموشی کو حیا سمجھا جاتا تھا، مگر اس خاموشی کا نقصان کئی نسلوں کی بچیوں نے اٹھایا۔

 

آج کے دور میں صورتحال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے۔ آگاہی بڑھ رہی ہے، سہولتیں دستیاب ہیں اور بہت سی مائیں اب اپنی بچیوں سے کھل کر بات کرنے لگی ہیں۔ ماں اور بیٹی کے درمیان فاصلے کم ہو رہے ہیں، جو ایک مثبت تبدیلی ہے۔ اب کئی گھروں میں ماہواری کو ایک قدرتی عمل کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے۔

 

اس کے باوجود ابھی بھی مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ آج بھی کئی بچیاں ایسی ہیں جو اپنی ماں کو ماہواری کے بارے میں نہیں بتاتیں اور اسی وجہ سے جسمانی اور ذہنی مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس موضوع پر بات چیت کو عام اور معمول کا حصہ بنایا جائے۔

 

ہر بچی کا حق ہے کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ اپنی زندگی کے ہر معاملے پر بلا خوف بات کر سکے۔ ماں کا نرم رویہ، سمجھنے کا انداز اور توجہ سے سننا بچی کے لیے بہت بڑا سہارا بن سکتا ہے۔ اگر ماں شروع ہی سے بچی کو یہ یقین دلا دے کہ ماہواری ایک قدرتی عمل ہے اور اس پر بات کرنا بالکل درست ہے، تو بہت سی مشکلات خود ہی کم ہو سکتی ہیں۔

 

ماہواری کی صفائی اور روزمرہ خیال رکھنے سے متعلق آگاہی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خاموشی نے کتنی بچیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگرچہ ہم نے اس سمت میں کافی قدم اٹھائے ہیں، مگر اب بھی ضرورت ہے کہ ماں اور بیٹی کے درمیان موجود یہ خاموش فاصلہ مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

 

 ایک ایسا ماحول بنانا ضروری ہے جہاں ہر بچی اپنی ماں سے رہنمائی حاصل کر سکے، کیونکہ یہی اعتماد اور درست معلومات ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔