عظمیٰ اقبال
ضلع سوات، جو قدرتی حسن اور سیاحتی سرگرمیوں کے باعث خیبرپختونخوا کا ایک نمایاں علاقہ ہے، وہاں ایمرجنسی طبی سہولیات کی دستیابی ایک اہم عوامی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
بڑھتی ہوئی آبادی، سیاحوں کی مسلسل آمد، ٹریفک حادثات اور دل کے امراض جیسے ہنگامی کیسز میں اضافے کے باوجود ضلع کے کئی علاقوں میں چوبیس گھنٹے فعال ایمرجنسی سہولیات میسر نہیں، جس کے باعث مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سوات کے متعدد دیہی اور نیم شہری علاقوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریض کو فوری علاج کے بجائے طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ اکثر صورتوں میں مریض کو مینگورہ یا سیدو شریف منتقل کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنے تک قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔
مقامی شہریوں کے مطابق ایمرجنسی سہولیات کی کمی اب انفرادی مسئلہ نہیں رہی بلکہ پورے ضلع کے لیے ایک اجتماعی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
تحصیل چارباغ کے علاقے آلہ آباد سے تعلق رکھنے والی سدرا کے مطابق تقریباً چھ سال قبل رات گئے ان کے والد کو اچانک سانس لینے میں دشواری اور بازو میں درد محسوس ہوا۔ اہلِ خانہ فوری طور پر قریبی ڈاکٹر کے گھر پہنچے، تاہم وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ بعد ازاں انہیں چارباغ منتقل کیا گیا، مگر وہاں بھی اس وقت ڈاکٹر دستیاب نہیں تھا۔
سدرا کے مطابق والد کو مزید علاج کے لیے مینگورہ لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں ان کا انتقال ہو گیا۔ بعد میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔
سدرا کا کہنا ہے کہ ایک گنجان آباد تحصیل، جہاں تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور مرکزی سڑک پر روزمرہ حادثات معمول ہیں، وہاں مکمل ایمرجنسی ہسپتال کا نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اسی طرح خوازہ خیلہ میں بھی ایمرجنسی سہولیات کی کمی شہریوں کے لیے ایک مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ خوازہ خیلہ کے رہائشی 29 سالہ رحمان علی کے مطابق ان کا ایک سالہ بیٹا اچانک بے ہوش ہو گیا۔
بچے کو فوری طور پر مقامی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ابتدائی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے مینگورہ منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ مینگورہ کے سرکاری ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ میں رش کے باعث بروقت توجہ نہ مل سکی، جس پر وہ بچے کو نجی ہسپتال لے جانے پر مجبور ہو گئے۔
رحمان علی کے مطابق ایک رات کے علاج کے عوض 25 ہزار روپے وصول کیے گئے، جبکہ ان کی یومیہ آمدن 800 سے 1000 روپے کے درمیان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مقامی سطح پر مناسب ایمرجنسی سہولیات میسر ہوتیں تو انہیں نہ مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا اور نہ ہی شدید ذہنی پریشانی سے گزرنا پڑتا۔
اپر سوات کے علاقوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔ بحرین سے تعلق رکھنے والی صائمہ کے مطابق ان کے علاقے میں ایمرجنسی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کسی بھی ہنگامی حالت میں مریض کو پہلے خوازہ خیلہ اور پھر مینگورہ لے جانا پڑتا ہے، جو دشوار گزار سڑکوں کے باعث ایک طویل اور مشکل سفر بن جاتا ہے۔
ان کے مطابق کئی افراد ریسکیو 1122 کو اس لیے کال نہیں کرتے کہ ایمبولینس دیر سے پہنچتی ہے یا بعض اوقات پہنچ ہی نہیں پاتی، جس کے باعث اہلِ خانہ خود سواری کا انتظام کرتے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق ضلع سوات میں ایمرجنسی طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سوات ڈاکٹر فضل عارف کے مطابق ضلع میں آٹھ سرکاری ہسپتال ایسے ہیں جہاں چوبیس گھنٹے ایمرجنسی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں مٹہ، خوازہ خیلہ، مدین، بری کوٹ اور کبل شامل ہیں۔
ان کے مطابق تحصیل چارباغ میں اس وقت مکمل تحصیل ہیڈکوارٹر سطح کا ایمرجنسی ہسپتال موجود نہیں، تاہم رورل ہیلتھ سینٹر اور بیسک ہیلتھ یونٹس کے ذریعے بنیادی ایمرجنسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
رورل ہیلتھ سینٹر چارباغ کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے کی تجویز بھی متعلقہ حکام کو ارسال کی جا چکی ہے، تاہم اس پر عملدرآمد میں وقت درکار ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق ضلع میں ایمرجنسی رسپانس کے لیے وسائل موجود ہیں، تاہم جغرافیائی حالات ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ریسکیو 1122 نارتھ ریجن کی ترجمان شفیقہ گل کے مطابق ضلع سوات میں 70 سے زائد ایمرجنسی گاڑیاں موجود ہیں، جن میں 40 ایمبولینسز شامل ہیں، جبکہ 370 سے زائد تربیت یافتہ ریسکیورز خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق پہاڑی راستے، تنگ سڑکیں، لینڈ سلائیڈنگ، خراب موسم اور سیاحتی دباؤ بروقت رسپانس میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سوات میں ایمرجنسی طبی سہولیات کا مسئلہ محض اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ یہ ان زمینی حقائق اور روزمرہ تجربات سے جڑا ہے جن کا سامنا مقامی آبادی کو کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی، سیاحتی سرگرمیوں اور حادثات کے پیشِ نظر تحصیل سطح پر مؤثر ایمرجنسی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ہنگامی حالات میں بروقت اور مناسب طبی امداد یقینی بنائی جا سکے۔
