خیبر پختونخوا کے ضمن شدہ اضلاع میں منشیات کے مکمل خاتمے اور پوست کی کاشت کی روک تھام کے لیے حکومت نے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ 

 

ضلع خیبر اور ضلع مہمند کے کسانوں کو مفت متبادل بیج، کھاد اور زرعی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ متبادل فصلوں سے متعلق جامع منصوبہ فوری طور پر ضلعی انتظامیہ سے طلب کر لیا گیا ہے۔

 

یہ فیصلے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیے گئے، جس میں سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خالد الیاس، اینٹی نارکوٹکس فورس، محکمہ زراعت، پولیس اور قبائلی اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔

 

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خالد الیاس نے بتایا کہ پوست کی ایک جدید ہائبرڈ قسم تیار کر لی گئی ہے جس سے منشیات تیار نہیں کی جا سکیں گی، بلکہ اسے صرف ادویات سازی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی منظوری کے بعد یہ بیج مخصوص کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔

 

پوست کی کاشت روکنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ انسدادِ منشیات، محکمہ ایکسائز، پولیس اور محکمہ زراعت پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے کسانوں کو ان کی زمین اور موسمی حالات کے مطابق مفت متبادل بیج فراہم کیے جائیں گے، جن سے پوست کے مقابلے میں تین گنا تک زیادہ منافع حاصل ہونے کی توقع ہے۔

 

محکمہ زراعت نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ضلع خیبر اور ضلع مہمند کے وہ تمام علاقے جہاں ماضی میں پوست کی کاشت ہوتی رہی ہے، وہاں قانونی اور معاشی طور پر زیادہ فائدہ مند متبادل فصلوں کی کاشت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

 

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ منتخب عوامی نمائندوں اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ذریعے کسانوں میں آگاہی مہم چلائی جائے گی تاکہ انہیں متبادل فصلوں کی طرف مؤثر انداز میں راغب کیا جا سکے۔

 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے کہا کہ مارچ کا مہینہ پوست کی کاشت کے لیے حساس سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس سال کسی بھی صورت پوست کی کاشت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کسانوں کو مارچ سے قبل متبادل فصلوں کے بیج فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بروقت اور بہتر فیصلہ کر سکیں۔

 

کمشنر پشاور ڈویژن نے واضح کیا کہ پوست کی کاشت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا، تاہم حکومت کی اولین ترجیح کسانوں کو نقصان سے بچاتے ہوئے انہیں قانونی اور منافع بخش متبادل روزگار فراہم کرنا ہے۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ ہفتے دوبارہ جائزہ اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔