خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے وادی تیراہ سے نکل مکانی کرنے والے متاثری شدید برفباری کے باعث مختلف مقامات پر راستوں میں پھنس گئے ہیں۔
گزشتہ صبح سے جاری برفباری کے نتیجے میں وادی تیراہ میدان کے مختلف علاقوں میں دو فٹ تک برف پڑ چکی ہے جس کے باعث تیراہ سے باڑہ اور پشاور کو ملانے والی واحد شاہراہ بند ہو گئی ہے، جبکہ سینکڑوں گاڑیاں سڑکوں پر پھنس گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق لرباغ سے دوا توئی اور سندانہ تک پہاڑی سلسلوں میں بڑی تعداد میں گاڑیاں موجود ہیں جن میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں خاندان محصور ہیں۔ شدید سردی اور راستوں کی بندش کے باعث متاثرین کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب پاک فوج کی جانب سے مختلف مقامات پر پھنسے متاثرین کو گرم کمبل، ادویات اور خوراک فراہم کی جا رہی ہے تاکہ فوری ریلیف دیا جا سکے۔ فوجی افسران اور جوان امدادی سرگرمیوں میں مسلسل مصروف ہیں۔
رکن صوبائی اسمبلی اور ڈیڈک چیئرمین خیبر عبدالغنی آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ برفباری کے باعث متاثرین پہاڑی علاقوں میں پھنس گئے ہیں اور صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ بھرپور کوشش کر رہی ہیں تاکہ ہر متاثرہ خاندان تک امداد پہنچائی جا سکے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مسلسل رابطے میں ہیں اور واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ متاثرین کو ایمرجنسی بنیادوں پر تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔
ضلعی انتظامیہ خیبر اور صوبائی حکومت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ برفباری کے خاتمے تک گھروں سے نکلنے سے گریز کریں اور سڑکوں کی بحالی کا انتظار کریں۔
ادھر گزشتہ شب وادی تیراہ سے آنے والے آئی ڈی پیز کی ایک گاڑی دوا توئی کے مقام پر حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں دو بچے جاں بحق جبکہ ان کے والدین زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وادی تیراہ سے نکل مکانی کی مدت میں توسیع کر دی گئی ہے، جس کے تحت متاثرین کو اب 25 جنوری کے بجائے 5 فروری تک نکل مکانی مکمل کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔
ریسکیو 1122 خیبر کے ترجمان کے مطابق بارش اور برفباری کے باعث وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں گاڑیاں پھنسنے کی متعدد اطلاعات موصول ہوئیں۔
متاثرہ علاقوں میں تیراہ نارے بابا، دوا توئی پائندہ چینہ، ننگروسہ اور تختکی شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر شارق ریاض خٹک کی براہ راست نگرانی میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس میں دو ایمبولینسز، ڈیزاسٹر وہیکلز اور تربیت یافتہ اہلکار موقع پر موجود ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اب تک 15 سے زائد افراد کو بحفاظت منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ خیبر اور پشاور سے اضافی ریسکیو ٹیمیں بیک اپ کے طور پر روانہ کر دی گئی ہیں۔
امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری آلات اور وسائل فراہم کر دیے گئے ہیں۔
