پشاور ہائی کورٹ نے سینئر کارڈیالوجسٹ کی پروفارما ترقی سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہونے کے معاملے میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو توہینِ عدالت کیس میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔

 

جسٹس نعیم انور کی سربراہی میں قائم بینچ نے کہا کہ عدالتی حکم پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا، اس لیے چیف سیکریٹری سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ فیصلے پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔

 

یہ درخواست معروف کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر فوزاللہ فاروق نے دائر کی تھی۔ درخواست میں بتایا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے شاندار خدمات کی بنیاد پر انہیں بی پی ایس 21 میں پروفارما ترقی دینے کا حکم دیا تھا اور اسپیشل سلیکشن کمیٹی کے منفی ریمارکس بھی ختم کر دیے تھے۔

 

عدالت نے ہدایت کی تھی کہ پہلے سے دیے گئے نمبرز کو برقرار رکھتے ہوئے معاملہ صوبائی سلیکشن بورڈ (پی ایس بی) کو حتمی سفارش کے لیے بھیجا جائے، تاہم درخواست گزار کا کہنا ہے کہ صوبائی سلیکشن بورڈ نے عدالتی ہدایات کے مطابق کارروائی نہیں کی۔

 

درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ نعمان محب کاکاخیل نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ میرٹ پر ترقی کے لیے درکار 75 فیصد نمبرز پورے ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود نمبرز کا دوبارہ حساب لگا کر انہیں کم ظاہر کیا گیا۔

 

وکیل کے مطابق صوبائی سلیکشن بورڈ کو ایسے نکات پر دوبارہ غور کرنے کا اختیار نہیں تھا جن پر عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے، اور تمام سرکاری اداروں پر عدالتی احکامات پر مکمل عمل کرنا لازم ہے۔

 

عدالت نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو حکم دیا ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف پیش کریں۔عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔