آٹھ برس قبل پشتو موسیقی کے معروف گلوکار شہسوار نے شہرت، اسٹیج اور داد سے بھری دنیا کو جب خیرباد کہہ کر دین کی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پر وقتی طور پر داد دی گئی، اسے مردِ مومن قرار دیا گیا، اور نیکی کی علامت کے طور پر سراہا گیا۔

 

مگر یہ داد محض لفظوں تک محدود رہی۔ ان تالیوں کے شور میں کسی نے یہ نہ سوچا کہ جس نے اپنا واحد ذریعۂ معاش چھوڑا ہے، اس کے گھر میں بھوک کیسے مٹائی جائے گی،

 

شہسوار کا موسیقی ترک کرنا اس کا ذاتی فیصلہ تھا، مگر اس کے بعد معاشرے کا رویہ،سرد مہری، تحقیر اور بے حسی آہستہ آہستہ اس کے ذہن اور اعصاب کو تباہ کرنے لگا۔

 

عزت کی چھاؤں، طنز کے بادل 

 

جب شہسوار نے موسیقی کو خیرباد کہا تو نہ جمع پونجی تھی، نہ کوئی متبادل ہنر۔ اس نے اپنی آواز کو نعت خوانی کے لیے وقف کیا، مگر حوصلہ افزائی کے بجائے اس کے ماضی کو اس کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

 

وہ جب بھی دین یا اصلاح کی بات کرتا، لوگ اس کے الفاظ نہیں سنتے بلکہ طنز کرتے کہ“یہ تو وہی گلوکار ہے۔”غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر جب وہ لنڈے بازار میں ایک سستا کوٹ خرید رہا تھا، ایک راہگیر نے طنزیہ کہا کہ “شہسوار! کیا اب تمہارے یہ دن آ گئے ہیں؟”یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، یہ اس کی خودداری پر کاری ضرب تھی جس نے اسے اندر سے توڑ دیا۔

 

ڈیجیٹل طوفان: ہمدردی کے بجائے تنقید کی بارش

 

گھر میں بھوک نے شہسوار کو سوشل میڈیا کی طرف دھکیل دیا، جہاں اس نے نعت خوانی شروع کی اور مدد کی اپیل کی۔ مگر سوشل میڈیا کی دنیا نے اسے تنقید، گالیوں، طنز اور مذاق کے سوا کچھ نہ دیا۔

 

یہ ذہنی دباؤ اس کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔ ڈپریشن اور تنہائی نے اسے نشے کے انجکشنز کی طرف دھکیل دیا۔وہ شخص جو معاشرے کی اصلاح کا خواہاں تھا، اسی معاشرے کے رویوں کی وجہ سے خود ایک نفسیاتی مریض بن گیا۔

 

جب ہر لمحہ زخم بن جائے

 

غربت، نشہ اور مسلسل تذلیل نے شہسوار کے اعصاب مفلوج کر دیے۔ اس نے گھر میں توڑ پھوڑ شروع کر دی اور اپنے پیاروں کے لیے خطرہ بن گیا۔ حتیٰ کہ اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی ختم کرنے کے خیالات نے اسے گھیر لیا۔

 

اس سے پہلے کہ صورتحال مزید بگڑتے اہلِ خانہ نے مجبوراً اسے پولیس کے حوالے کیا، مگر جب علاج کی باری آئی تو گھر والوں کے پاس ان کے علاج کے لیے پیسے موجود نہ تھے۔ آخرکار، اسے پشاور کے ایک فلاحی بحالی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں وہ آج بکھرے ہوئے لفظوں میں رب اور انسانوں سے معافی مانگ رہا ہے۔

 

معاشرہ ہمارا شریک جرم ہے

 

شہسوار کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے دین کی طرف رجوع کیا۔ مگر معاشرہ، جو گناہگار کو تو قبول کر لیتا ہے، توبہ کرنے والے کو طعنوں سے مار ڈالتا ہے۔اسے اس مقام تک پہنچانے میں وہ سب شریک ہیں جنہوں نے مذاق اڑایا، عزتِ نفس کچلی، اور اسے تماشا بنایا۔

 

براہِ کرم، کسی کی مجبوری کو تفریح کا حصہ نہ بنائیں۔جب ایک سفید پوش انسان کی انا ٹوٹتی ہے تو وہ صرف خاموش نہیں ہوتا، وہ اندر ہی اندر مر جاتا ہے۔شہسوار کو اس وقت تنقید یا نصیحت نہیں بلکہ علاج، ہمدردی اور انسانی سہارا درکار ہے اور یہ سہارا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔