عظمیٰ اقبال
جنگ کبھی صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات عام لوگوں کی زندگی کے ہر شعبے تک پھیل جاتے ہیں۔ کاروبار کی بندش، علاج میں رکاوٹیں، تعلیم کے ادھورے خواب اور روزگار کی کمی مل کر ایک ایسی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں جس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی نے بھی سب سے زیادہ متاثر عام شہریوں کو ہی کیا ہے، جن کا نہ تو سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی پالیسی سازی سے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے تاجر، مریض، طلبہ، ہنرمند اور محنت کش اس صورتحال کا براہِ راست بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
سینئر صحافی طاہر خان نے اس حوالے سے ٹی این این کو بتایا کہ اکتوبر میں تجارتی راستے بند ہونے کے بعد کاروباری سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچا۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے اہم تجارتی منڈیاں ہیں۔ گزشتہ سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران افغانستان کے لیے برآمدات میں 16 فیصد اضافہ ہوا تھا، جبکہ مجموعی طور پر پاکستانی برآمدات میں 33 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: پاک — افغان سرحد پر کشیدگی — افغان طالبان کی فائرنگ، پاکستانی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تقریباً 40 فیصد ادویات افغانستان بھیجی جاتی تھیں اور کئی کارخانے افغان تجارت سے وابستہ تھے، جن سے ہزاروں افراد کا روزگار جڑا ہوا تھا۔ سرحدی بندش کے بعد یہ سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ افغانستان پاکستان کے لیے وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم راستہ بھی ہے۔ گزشتہ سال تقریباً 110 ملین ڈالر مالیت کی کینو افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کو برآمد کی گئی تھی اور اس سال بھی اسی ہدف کے حصول کی توقع تھی، مگر حالیہ کشیدگی کے باعث یہ منصوبہ متاثر ہوا۔
معاشی سطح پر برآمدات میں نمایاں کمی آئی، جبکہ بجلی اور گیس کے وہ منصوبے بھی تعطل کا شکار ہو گئے جو افغانستان کے راستے پاکستان آنا تھے۔
اس صورتحال نے سرمایہ کاری اور روزگار دونوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
چیمبر آف کامرس خیبر پختونخوا کے مطابق سرحدی بندش کے باعث ہر ماہ تقریباً 45 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جس سے ملکی معیشت پر اضافی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ سرحدی منڈیاں ویران ہو چکی ہیں۔
لنڈی کوتل کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بازار میں دو ہزار سے زائد تجارتی مراکز موجود ہیں اور ہزاروں خاندانوں کا روزگار ان سے وابستہ ہے، مگر راستے بند ہونے سے کاروباری سرگرمیاں تقریباً ٹھپ ہو چکی ہیں۔ مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ معیشت کو کشیدگی سے الگ رکھا جائے تاکہ عام شہریوں کا نقصان کم سے کم ہو۔
یہ اثرات صرف بڑی صنعتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ گھریلو سطح پر کام کرنے والے ہنرمند بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ سوات کے علاقے الہ آباد سے تعلق رکھنے والی فاطمہ گزشتہ تیس برس سے ٹوپیوں پر نقش و نگار بنانے کا کام کر رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسی ہنر کے ذریعے وہ اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتی تھیں، مگر اب آرڈرز نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، جس سے مالی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
سوات کے چار باغ سے تعلق رکھنے والے کاریگر عصمت کے مطابق یہ ہنر صدیوں پرانا ہے اور ان ٹوپیوں کی مانگ دور دراز علاقوں تک تھی۔ ماضی میں غیر ملکی شخصیات بھی اس فن کو دیکھنے آ چکی ہیں۔
اس صنعت میں مرد سادہ ٹوپیاں تیار کرتے تھے جبکہ خواتین ان پر کشیدہ کاری کرتی تھیں۔ ان کے مطابق تقریباً 80 فیصد ٹوپیاں افغانستان بھیجی جاتی تھیں، مگر تجارت بند ہونے کے باعث بیشتر کاریگروں نے یہ کام چھوڑ دیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک وقت میں چار باغ میں تقریباً سو دکانیں اس ہنر سے وابستہ تھیں۔
2007 میں جب افغان تجارت بند ہوئی تو کاروبار کو شدید نقصان پہنچا تھا، اور حالیہ بندش نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والی درجنوں خواتین اور کئی مرد اب بے روزگار ہو چکے ہیں۔
سرحدی حالات کا اثر طبی شعبے پر بھی نمایاں ہے۔ طاہر خان کے مطابق ہزاروں افغان شہری کینسر اور دل کے امراض جیسے پیچیدہ علاج کے لیے پاکستان آتے تھے، جبکہ ہنگامی مریض بھی پاکستانی اسپتالوں کا رخ کرتے تھے۔
موجودہ صورتحال میں ان کی آمد میں واضح کمی آئی ہے۔ افغانستان میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی کے باعث مریض علاج کے لیے پاکستان آتے تھے، اور پاکستان سے بڑی مقدار میں ادویات بھی وہاں بھیجی جاتی تھیں، جو اب متاثر ہو رہی ہیں۔
تعلیم کا شعبہ بھی اس کشیدگی سے محفوظ نہیں رہا۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں افغان طلبہ بہتر تعلیم کے حصول کے لیے پاکستان آتے تھے، مگر ویزا مسائل کے باعث ان کی آمد تقریباً رک گئی ہے۔
خاص طور پر میڈیکل کے طلبہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پا رہے۔ گزشتہ چند برسوں سے افغانستان میں خواتین ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہے، ایسے میں تعلیمی رکاوٹیں مستقبل میں صحت کے نظام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
سرحدی علاقوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھ گیا ہے۔ ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن شاہ خالد شاہ کے مطابق حالیہ فائرنگ کے واقعات میں تحصیل ماموند میں دو افراد جاں بحق اور سات زخمی ہوئے، جبکہ متعدد مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومتی اقدامات کے بعد حالات نسبتاً معمول پر آ گئے ہیں، مگر لوگوں میں تشویش برقرار ہے۔ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ انسانی جانوں کا مزید ضیاع نہ ہو۔ باجوڑ کے مقامی افراد کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کئی تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند رکھے گئے ہیں۔
سرحدی کشیدگی کا سب سے بڑا بوجھ عام لوگ ہی اٹھاتے ہیں۔ جب تجارت رکتی ہے تو روزگار ختم ہوتا ہے، جب ویزا بند ہوتے ہیں تو تعلیم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، اور جب راستے مسدود ہوتے ہیں تو مریض علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔
سرحدی علاقوں کے عوام چاہتے ہیں کہ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے نکالا جائے تاکہ تجارت، تعلیم اور علاج کے دروازے دوبارہ کھل سکیں اور زندگی ایک بار پھر معمول پر آ سکے۔
