پشاور کے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے معیار اور سیکیورٹی انتظامات سے متعلق نیا تنازع سامنے آگیا ہے، جس کے بعد نیشنل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کے بیشتر میچز کو راولپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم سیمی فائنل اور فائنل بدستور پشاور میں ہی منعقد ہوں گے۔

 

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پشاور اسٹیڈیم میں بعض سہولیات تاحال مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہیں، جس کے باعث نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے میچز منتقل کرنا پڑے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: سانحہ آرمی پبلک اسکول سے متعلق عدالت نے اہم حکم جاری کر دیا

 

 انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں ہفتے کے اختتام تک صورتحال واضح ہو جائے گی اور بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں پی ایس ایل کے میچز پشاور میں منعقد ہوں۔

 

دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس خیبر پختونخوا تاشفین حیدر کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈومیسٹک چیف خرم نیازی کے مطابق میچز کی منتقلی کی بنیادی وجہ سیکیورٹی خدشات ہیں۔ ان کے مطابق 5 مارچ سے شروع ہونے والے میچز راولپنڈی منتقل کیے گئے، تاہم سیمی فائنل اور فائنل پشاور میں ہی ہوں گے۔

 

تاشفین حیدر نے سلمان نصیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم مکمل طور پر تیار اور معیار کے مطابق ہے، جبکہ پی ایس ایل میچز کی میزبانی کے حوالے سے صوبائی حکومت کو یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

 

خرم نیازی نے رابطہ کرنے پر تصدیق کی کہ اسٹیڈیم کی سہولیات کے حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ موجود نہیں۔

 

واضح رہے کہ ماضی میں بھی اس اسٹیڈیم کے معیار اور سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس اس کا نام عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم رکھے جانے کے بعد بھی تنقید سامنے آئی تھی۔ طویل عرصے سے یہ گراؤنڈ بین الاقوامی میچز کی میزبانی سے محروم رہا ہے، جبکہ بعض تعمیراتی منصوبے تاخیر کا شکار بھی رہے۔

 

 حالیہ دنوں میں ڈومیسٹک میچز اسی اسٹیڈیم میں منعقد کیے گئے اور صوبائی حکومت نے پی ایس ایل فرنچائز پشاور زلمی کے تعاون سے ایک نمائشی میچ بھی کرایا تھا۔