خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر اور سابق امیدوار برائے صوبائی اسمبلی مولانا وحید گل کی رہائش گاہ کو گزشتہ شب بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم دھماکے کے نتیجے میں گھر، حجرہ اور ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

 

پولیس کے مطابق دھماکہ خیز مواد مولانا وحید گل کے حجرے کے مرکزی گیٹ کے قریب نصب کیا گیا تھا۔ واقعے کے وقت مولانا وحید گل گھر پر موجود نہیں تھے، جس کے باعث وہ محفوظ رہے۔ 

 

ڈی پی او باجوڑ وقاص رفیق کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں آئی ای ڈی استعمال کی گئی۔ دھماکے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

 

واقعے کے بعد ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا وحید گل نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے سکیورٹی خدشات کا سامنا کر رہے تھے، جبکہ پچھلے تین دنوں کے دوران انہیں مسلسل دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں۔ 

 

انہوں نے کہا کہ علاقے میں ایک بار پھر عدم استحکام پیدا کرنے اور خونی کاروبار کو فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول کچھ عناصر زبردستی اپنا بیانیہ مسلط کرنا چاہتے ہیں، جو تشویشناک ہے۔

 

مولانا وحید گل نے حکام پر تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود گزشتہ دو ماہ کے دوران دو مرتبہ ان کی سکیورٹی واپس لی گئی، جو بار بار درخواستوں کے بعد بحال کی گئی۔ انہوں نے واضح مطالبہ کیا کہ امن و امان کی بحالی ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور انہیں اپنا آئینی فرض پورا کرنا چاہیے۔

 

حملے کے فوری بعد جماعت اسلامی باجوڑ نے ایک اہم مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں واقعے کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ 

 

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا (شمالی) عنایت اللہ خان نے بھی مولانا وحید گل کے گھر پر ہونے والے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر ذمہ دار عناصر کو گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے جماعت اسلامی کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

 

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔