پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عتیق شاہ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بنچ نے ایک تاریخی اور دور رس اثرات کا حامل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے صوبے کے عدالتی اور فوجداری نظام میں بنیادی اصلاحات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
فیصلے میں عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ساتھ ساتھ ایک آزاد اور خودمختار فارنزک سائنس ایجنسی کے قیام کا حکم دیا گیا ہے۔
تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ مقدمات کے بروقت اور مؤثر تصفیے کے لیے عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہو چکی ہے۔ بنچ کے مطابق کیس مینجمنٹ، عدالتی کارکردگی کی نگرانی اور پالیسی سازی کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے کی غرض سے مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کو عدالتی عمل کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔
عدالت نے تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتی نظام میں AI اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے انضمام کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کریں۔ فیصلے کے مطابق مقدمے کے اندراج سے لے کر حتمی فیصلے تک تمام عدالتی ریکارڈ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے گا، تاکہ تاخیر کی نشاندہی اور مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔
فیصلے میں ضلع کی سطح پر جدید مانیٹرنگ ڈیش بورڈز قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، جن میں ٹریفک لائٹ سسٹم کے تحت مقدمات کی صورتحال ظاہر کی جائے گی۔
سرخ رنگ ان مقدمات کی نشاندہی کرے گا جن میں فوری عدالتی مداخلت درکار ہو گی، جبکہ عدالتی نظام کو مجموعی طور پر تیز اور مؤثر بنانے کے لیے تمام سرخ اشاریوں کے خاتمے کو ہدف قرار دیا گیا ہے۔
فوجداری نظامِ انصاف میں شفافیت اور سائنسی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لیے عدالت نے پنجاب سیف سٹی اور پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کے ماڈل پر ایک آزاد فارنزک سائنس ایجنسی کے قیام کا بھی حکم دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق اس ایجنسی کو الگ قانونی اور خودمختار حیثیت دی جائے گی تاکہ فارنزک رپورٹس کے معیار، غیرجانبداری اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ مجوزہ فارنزک ایجنسی کے سیٹلائٹ دفاتر تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں قائم کیے جائیں اور فارنزک لیبارٹریز کو پولیس کے آپریشنل اور تحقیقاتی شعبوں سے مکمل طور پر الگ رکھا جائے۔ ان اداروں کو صرف مستند اور ماہر پیشہ ور افراد کے ذریعے چلایا جائے گا۔
علاوہ ازیں، عدالت نے موجودہ فارنزک سائنس لیبارٹری میں عملے کی کمی کو فوری طور پر نئی بھرتیوں کے ذریعے پورا کرنے اور زیرِ التواء منصوبوں کے لیے بلا تاخیر فنڈز جاری کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کو عدالتی اور فوجداری نظام میں جدید اصلاحات کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
