خیبر: باڑہ وادی تیراہ سے بے گھر ہونے والے متاثرین (ٹی ڈی پیز) کیلئے نہ ختم ہونے والا ٹریفک جام شدید مشکلات کا سبب بن گیا ہے، جو اب ایک سنگین انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

 

 بدترین مس مینجمنٹ اور انتظامی کمزوریوں کے باعث مختلف شاہراہوں پر گاڑیوں کی کئی کئی کلومیٹر طویل قطاریں لگ گئی ہیں، جہاں گزشتہ تین دنوں سے سینکڑوں خاندان شدید سردی، غذائی قلت اور بنیادی انسانی ضروریات کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

تفصیلات کے مطابق وادی تیراہ سے ٹی ڈی پیز کے انخلا کا نواں روز ہے، تاہم انخلا کے عمل کے دوران ناقص انتظامات نے متاثرین کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔

 

 وادی تیراہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پیر میلہ روڈ، برقمبر خیل اور ملک دین خیل سے آنے والی سڑکوں پر حدِ نگاہ تک ٹریفک جام ہے، جس کے باعث متاثرہ خاندان شدید ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

 

متاثرین کا کہنا ہے کہ متعدد خاندان دو، دو دنوں سے مائنس درجہ حرارت میں گاڑیوں کے اندر شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان گاڑیوں میں بزرگ، خواتین اور کمسن بچے سوار ہیں جبکہ حاملہ خواتین بھی موجود ہیں۔

 

 ذرائع کے مطابق ٹریفک میں پھنسے خاندانوں میں دو ڈیلیوری کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر تاحال اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

 

اسی طرح دواتوئی، سندانہ اور پائندی چینہ کے علاقوں میں بھی گزشتہ تین دنوں سے بدترین ٹریفک جام برقرار ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو نہ صرف خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے بلکہ طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث سینکڑوں افراد بیمار ہو چکے ہیں۔ 

 

سرد موسم کے باعث بچوں میں نمونیا کے کیسز بھی رپورٹ ہو رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔

 

مقامی ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر متعلقہ حکام نے فوری طور پر صورتحال کا نوٹس نہ لیا، ٹریفک کے بہاؤ کو منظم نہ کیا اور متاثرین کو طبی امداد، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو کسی بھی وقت ایک بڑے انسانی المیے کا خدشہ ہے۔ 

متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور انتظامیہ سے فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔