مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب میں نے اپنی پہلی ڈگری حاصل کی۔ اردگرد مبارک بادیں تھیں، دعائیں تھیں، اور یہ جملہ بار بار سننے کو مل رہا تھا اب تمہاری زندگی بدل جائے گی۔میں نے بھی یقین کر لیا کہ یہ کاغذ میرے لیے عزت، خودمختاری اور سکون کے دروازے کھولے گا۔

 

پڑھائی کے دوران میں اکثر تھکی ہوئی رہتی تھی، مگر یہ تھکن صرف کتابوں کی نہیں تھی۔ کلاس سے پہلے گھر کی ذمہ داریاں، اسائنمنٹس کے ساتھ گھریلو توقعات، اور امتحان کے دنوں میں بھی یہ یاد دہانی "بس یہ کام بھی نمٹا دو۔" پھر پڑھائی کرنا اور کئی بار یہ بات میرے ذہن میں آتی تھی کہ کیا علم حاصل کرنے کی قیمت خواتین کے لیے ہمیشہ زیادہ رکھی گئی ہے؟ 

 

ایک دن کلاس میں کسی موضوع پر مجھے رائے دینے کا موقع ملا۔ میں نے پورے اعتماد کے ساتھ بات کی، الفاظ درست اور دلیل مضبوط تھی، مگر جیسے ہی میں بولی، کمرے کا ماحول بدل گیا۔

 

کچھ نظریں ناگواری سے اٹھیں، کچھ مسکراہٹیں طنز میں بدل گئیں۔ بعد میں ایک خاتون ساتھی نے آہستہ کہا کہ “اتنی خوداعتمادی اچھی نہیں ہوتی، لوگ غلط مطلب لے لیتے ہیں۔”

 

اسی دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ خاتون کے لیے علم کافی نہیں ہوتا، اسے انداز، لہجہ اور حتیٰ کہ خاموشی کا بھی حساب رکھنا پڑتا ہے۔ اتنا بولنا کہ نظر آؤ، مگر اتنا نہیں کہ مسئلہ بن جاؤ۔

 

مختلف اداروں میں بھی میں نے یہ سیکھا کہ کون سی بات کہنی ہے اور کون سی دل میں رکھنی ہے۔ کئی بار میں نے اپنی بات آدھی چھوڑ دی، صرف اس لیے کہ ماحول خاموش رہنے کا اشارہ دے رہا تھا۔ اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ خاموشی میرے اندر کتنی چیزیں جمع کر رہی ہے۔

 

تعلیم مکمل ہونے کے بعد مجھے لگا شاید حالات بدل جائیں، مگر ایک بار ایک انٹرویوز نے نیا موڑ دکھایا۔ سوال میرے علم پر کم، اور میری زندگی پر زیادہ تھ کہ شادی کا کیا ارادہ ہے؟ گھر والے اجازت  دیں گے اگر حالات  بدل گئے تو؟

 

میں ہر بار مسکرا دیتی تھی، مگر اندر کہیں کچھ ٹوٹ جاتا تھا۔ وہاں مجھے پہلی بار واضح طور پر احساس ہوا کہ میری قابلیت کم اہم سمجھی جا رہی ہے، اور میری زندگی پر زیادہ سوال کیے جاتے رہے ہیں۔ملازمت کے دوران میں نے پوری ایمانداری سے محنت کی۔ میں نے سوچا محنت خود بولے گی، مگر جلدی سمجھ آ گیا کہ آپ کی محنت کا کریڈٹ کوئی اور بھی اپنے نام کر سکتا ہے۔

 

ایک موقع پر میری ایک فائل، جس پر میں نے دن رات کام کیا تھا، میٹنگ میں کسی اور کے نام سے پیش کی گئی۔ میں نے اعتراض کیا تو کہا گیا کہ “اتنی باتوں پر دل چھوٹا نہیں کرتے، ٹیم ورک میں سب چلتا ہے۔"

 

بعد میں مجھے اندازہ ہوا کہ کچھ خواتین جو میری قابلیت اور پیش رفت سے غیر محفوظ تھیں۔ مسکراہٹوں کے پیچھے مقابلہ، تعریف کے پیچھے سوال، اور تعاون کے نام پر خاموش رکاوٹیں تھیں۔

 

کچھ خواتین کہتی ہیں کہ مرد خواتین کی محنت کو "کوشش" اور مرد کی محنت کو "صلاحیت" سمجھتے ہیں، اور میں نے بھی مانتی تھی کہ خاتون، خاتون کی طاقت ہوتی ہے۔ شاید یہی سب سے خوبصورت فریب تھا۔

 

وقت کے ساتھ میں نے دیکھا کہ بہت سی خواتین ایسی رویوں کی وجہ سے خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ وہ اعلانِ شکست نہیں کرتیں، بس خود کو بچا لیتی ہیں۔

 

تب مجھے یہ احساس ہوا کہ میں اکیلی نہیں ہوں جو اس طرح کے رویوں کا سامنا کر رہی ہوں، بلکہ میری طرح بہت سی خواتین ایسی ہیں جو ان مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ مگر میں نے ہار نہیں مانی اور یہ عزم کیا کہ یہ رویے میرے حوصلے اور کوشش پر اثر ا نداز نہ ہوں۔

 

سچ یہ کہ خواتین کے ساتھ مختلف سلوک صرف روایت نہیں، بلکہ طاقت کے عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ خواتین کے رویے تب بدلیں گے جب وہ ایک دوسرے کو خطرہ نہیں بلکہ طاقت سمجھیں گی۔

 

چاہے راستہ کتنا ہی دشوار کیوں نہ ہو، اس پر قائم رہنا بے شمار خواتین کے لیے امید کی روشنی بن سکتا ہے۔ ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے رہنا ان سب کے لیے حوصلے کا سبب بنتا ہے جو خوف یا مایوسی کے باعث محدود ہو جاتے ہیں۔ 

 

آنے والا وقت ضرور بدلے گا، اور یہ تبدیلی ہم جیسی سوچ رکھنے والوں کی وجہ سے ممکن ہوگی۔ ایمانداری اور سچائی کے ساتھ کی گئی ہر کوشش آخرکار اپنا پھل دیتی ہے۔