خیبرپختونخوا حکومت نے ضم شدہ اضلاع میں لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (جانوروں کی پرورش، علاج اور دودھ کی پیداوار سے متعلق محکمہ) میں کروڑوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر چار افسران اور اہلکاروں کے خلاف انکوائری شروع کر دی ہے۔ یہ انکوائری خیبرپختونخوا گورنمنٹ سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2011 کے تحت کی جا رہی ہے۔
چیف سیکریٹری کی منظوری سے دو رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں ڈی جی پروٹوکول حمید اللہ شاہ اور ڈائریکٹر فشریز زبیر علی شامل ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔
انکوائری میں شامل افسران میں ڈائریکٹر لائیوسٹاک ضم شدہ اضلاع ڈاکٹر وحید اللہ، ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد، ڈاکٹر عرفان اللہ اور ویٹرنری اسسٹنٹ و اسٹور کیپر عقیل خان شامل ہیں۔
سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر وحید اللہ کے خلاف چارج شیٹ بھی جاری کی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2 کروڑ 74 لاکھ روپے مالیت کی ویکسین کی فراہمی کے بارے میں غلط رپورٹ دی جبکہ ویکسین موصول ہی نہیں ہوئی تھی۔
اسی طرح 4 کروڑ 89 لاکھ روپے مالیت کی ادویات کے اسٹاک ریکارڈ میں بھی مبینہ طور پر غلط اندراجات کیے گئے۔
چارج شیٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر وحید اللہ نے مکمل سامان وصول کیے بغیر ادائیگیوں کی منظوری دی، فنانس ڈیپارٹمنٹ کی اجازت کے بغیر ایڈوانس رقم جاری کی اور جزوی ادویات کی لیبارٹری رپورٹس بھی حاصل نہیں کیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں مختلف سرکاری سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ڈاکٹر وحید اللہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 10 سے 14 دن کے اندر اپنا تحریری جواب انکوائری کمیٹی کو جمع کرائیں، بصورت دیگر یکطرفہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
