کوہاٹ کی تحصیل گمبٹ کی یونین کونسل خوشحال گڑھ کے گاؤں وادی کمر میں غیر قانونی سونے کی کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے سات مزدور جاں بحق جبکہ ایک مزدور زخمی ہو گیا۔
حادثہ اس وقت پیش آیا جب مقامی افراد قانونی اجازت اور حفاظتی انتظامات کے بغیر کان کنی میں مصروف تھے کہ اچانک پہاڑ کا بڑا حصہ منہدم ہو کر کان کے اندر جا گرا۔
اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بھاری مشینری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔
ریسکیو اہلکاروں نے زخمی مزدور ریاض علی کو زندہ نکال کر فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے کے نیچے دبے سات مزدور جانبر نہ ہو سکے، جن کی لاشیں نکال کر قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں طلعت، فیاض، عابد، دانیال، صابر، فراز اور فیضان شامل ہیں، جن کا تعلق گاؤں پرشئی سے بتایا جاتا ہے۔
پولیس اور انتظامیہ کے مطابق واقعہ غیر قانونی کان کنی، حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی اور متعلقہ محکموں کی اجازت کے بغیر کھدائی کے باعث پیش آیا۔ پولیس تھانہ گمبٹ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ضلعی انتظامیہ پہلے ہی کوہاٹ میں سونے کی کان کنی پر پابندی عائد کر چکی ہے، تاہم بعض مقامات پر غیر قانونی کان کنی کا عمل جاری ہے۔
