کیا آپ کو پتہ ہے کہ 2026 میں بھی انسانی اسمگلنگ جاری ہے؟ یہ سن کر بہت سے لوگ حیران ہوں گے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی یہ سنگین جرم دنیا اور پاکستان دونوں میں پایا جاتا ہے اور لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔

 

انسانی اسمگلنگ سے مراد وہ عمل ہے جس میں افراد کو دھوکہ، جبر، دھمکی یا طاقت کے ذریعے اغوا کیا جاتا ہے۔ متاثرین میں خواتین، مرد، لڑکیاں، لڑکے اور بچے سب شامل ہو سکتے ہیں، لیکن زیادہ تر شکار لڑکیاں اور بچے ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ 

 

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم اور بین الاقوامی محنت تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد جبری مشقت اور جنسی استحصال کا شکار ہیں۔ 

 

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق صرف سال 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً 69,000 انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کی سرکاری طور پر شناخت کی گئی، جن میں تقریباً 61 فیصد خواتین اور لڑکیاں اور ایک تہائی بچے شامل تھے۔ بین الاقوامی محنت تنظیم کے تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً  27,600,000 افراد جبری مشقت یا جبری استحصال کا شکار ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: باجوڑ: کھیلوں کے فنڈز میں مبینہ خرد برد، ضلعی انتظامیہ نے تحقیقات شروع کر دیں

 

انسانی اسمگلنگ ایک منظم جرم ہے جو صرف ایک شخص کا کام نہیں بلکہ پورے خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

 

 اس نیٹ ورک میں ہر شخص کی الگ ذمہ داری ہوتی ہے جیسے بھرتی کرنا، منتقلی کا انتظام کرنا، دستاویزات تیار کرنا یا متاثرہ شخص کو کنٹرول میں رکھنا۔ اغوا یا ورغلانے کے بعد متاثرہ افراد کا استحصال مختلف شکلوں میں ہوتا ہے، جس میں جبری مشقت، جنسی زیادتی، گھریلو غلامی، بھیک منگوانا یا دیگر غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ یہ ظلم صرف ہمارے معاشرے کا حصہ نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی پایا جاتا ہے۔

 

انسانی اسمگلنگ کے لیے اکثر غربت اور کمزور معیشت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے تاکہ لوگ نوکری یا بہتر زندگی کے جھانسے میں آئیں۔ بچے کبھی کھلونوں، تحفوں یا میٹھی باتوں کے ذریعے ورغلائے جاتے ہیں۔

 

 لڑکیوں کو اسکالرشپ یا اچھی نوکری کے جھانسے میں ورغلایا جاتا ہے، اور جب وہ پھنس جاتی ہیں تو ان کے دستاویزات لے لیے جاتے ہیں تاکہ وہ کہیں بھی شکایت نہ کر سکیں۔ متاثرہ افراد کو بعض اوقات لاوارث پیش کر کے دستاویزات بنائی جاتی ہیں، پھر انہیں دوسرے ممالک میں لے جایا جاتا ہے اور ان کا جنسی یا محنتی استحصال کیا جاتا ہے۔

 

یہ ظلم صرف بچوں یا نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ بعض متاثرین کے اعضا کی اسمگلنگ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم عالمی سطح پر رپورٹ ہونے والے کیسز میں یہ تعداد دیگر اقسام کے مقابلے میں کم ہے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ہر اغوا شدہ شخص کے اعضا نکالے جاتے ہیں۔

 

 بعض لڑکیاں اور لڑکے جن کے شکل و صورت خوبرو ہوتی ہے، جنسی استحصال کے لیے رکھا جاتا ہے، اور بعض کی اعضا فروخت کے لیے نکالی جاتی ہیں۔

 

ایپسٹین فائلز جیسے عالمی کیسز نے بھی اس مظالم کو بے نقاب کیا ہے، جہاں لڑکیوں کو اغوا کر کے جزیروں میں رکھا گیا اور سالوں تک ہر قسم کے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ افراد کے ویڈیوز بھی سامنے آئے ہیں، جن میں وہ خود بتاتی ہیں کہ انہیں اچھی نوکری یا تعلیم کے جھانسے میں ورغلایا گیا تھا۔ 

 

بین الاقوامی ادارے جیسے یونیسف، اقوام متحدہ، بین الاقوامی محنت کی تنظیم اور انٹرپول متاثرین کی بحالی اور مجرموں کو سزا دلانے کے لیے ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

 

پاکستان میں بھی انسانی اسمگلنگ کے کئی کیسز درج ہیں۔ وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ کے مطابق 2026 میں اب تک تقریباً 2,446 کیسز درج ہوئے اور 791 افراد گرفتار کیے گئے۔ 2023‑24 کی رپورٹ کے مطابق 34,000 متاثرین میں تقریباً 70 فیصد خواتین اور لڑکیاں تھیں۔ 

 

نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کے مطابق صرف 2023 میں 2,047 بچوں کو انسانی اسمگلنگ یا استحصال کے حوالے سے شناخت کیا گیا۔ پاکستانی انسانی حقوق کے کارکن مختصر طور پر کہتے ہیں کہ متاثرہ افراد کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے اور غربت، تعلیم کی کمی اور جعلی ایجنٹس نوجوانوں اور کمزور طبقے کو شکار بناتے ہیں۔ حکومت اور معاشرہ مل کر ہی اس سنگین مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں۔

 

ہم سب کا بھی کردار ضروری ہے۔ بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ سکھائیں، اسکالرشپ یا بیرون ملک تعلیم کے لیے صرف رجسٹرڈ اداروں سے رابطہ کریں، اور اگر کبھی مشکوک صورتحال پیش آئے تو فوراً والدین یا حکام کو آگاہ کریں۔ 

 

انسانی اسمگلنگ ایک تلخ حقیقت ہے، لیکن آگاہی، مضبوط قوانین اور اجتماعی کوشش کے ذریعے ہم اس کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ اللہ ہم سب کی حفاظت کرے۔