پاک — افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سابقہ  قبائلی اضلاع میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو گئی ہیں۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ضلع باجوڑ میں 39 اور ضلع مہمند میں 53 اسکول تاحکمِ ثانی بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے سرحدی علاقوں میں متعدد سرکاری تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: مہمند: افغان حکومت بھارتی حمایت یافتہ، پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہی ہے – قبائلی مشران

 

ضلعی انتظامیہ کے مطابق باجوڑ کی تحصیل ناوگئی، واڑہ ماموند اور لوئی ماموند میں خراب سیکیورٹی صورتحال کے باعث تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند رہیں گے۔ اسی طرح ضلع مہمند کی تحصیل بائزئی، خویزئی اور صافی میں بھی 53 تعلیمی ادارے اگلے حکم تک بند رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

 

ادھر ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں محکمہ تعلیم نے سرحدی علاقوں کے متعدد سرکاری اسکولوں کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا باقاعدہ مراسلہ جاری کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام طلبہ اور اساتذہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

 

حکام کے مطابق موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور حالات بہتر ہونے پر تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے باعث سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں جبکہ مقامی آبادی میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔