کیا یہ وقت 804 کا نعرہ لگانے کا ہے یا وادی تیراہ کے دربدر متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونے کا؟

 

وادی تیراہ، جو کبھی سرسبز پہاڑوں، باوقار قبائلی روایات اور امن و سکون کی علامت تھی، آج ایک بار پھر نقل مکانی، غربت اور بنیادی سہولتوں کی شدید کمی کی لپیٹ میں ہے۔ اس وادی میں شاید کبھی جدید سہولیات میسر نہ تھیں، مگر یہاں امن تھا، تحفظ تھا، اور وہ سب کچھ تھا جو کسی بھی معاشرے کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، یہ سب کچھ یہاں کے باسیوں سے چھین لیا گیا۔

 

تیراہ کے قبائل کئی برسوں سے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا ایندھن بنے ہوئے ہیں۔ بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں، خاندان اجڑ رہے ہیں، اور سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ متاثرین کو آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کا قصور کیا ہے۔

 

 کبھی دہشت گردی کے نام پر، کبھی امن کے نام پر، انہیں بار بار اپنے گھروں، اپنی زمینوں اور اپنی یادوں سے محروم کیا گیا۔ آج ایک بار پھر وہی منظر، وہی خوف، وہی اذیت اور وہی نقل مکانی دہرائی جا رہی ہے۔

 

اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وادی تیراہ کے وہ منتخب نمائندے، جنہیں عوام نے اپنا ووٹ دے کر اسمبلیوں اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا، آج انہی لوگوں کے دکھ درد سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ وادی تیراہ ایک بار پھر دربدر ہے۔

 

 بوڑھے، بچے اور خواتین شدید سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ نقل مکانی کوئی نئی کہانی نہیں بلکہ ایک پرانا زخم ہے، جو ہر چند برس بعد تازہ کر دیا جاتا ہے۔ مگر اس بار درد صرف بے گھری کا نہیں، بلکہ نظراندازی اور بے حسی کا بھی ہے۔

 

قیادت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی قوم کے دکھ کو محسوس کرے، مشکل وقت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو اور ان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھے۔ افسوس کہ وادی تیراہ کے باسی ایسی قیادت سے محروم نظر آتے ہیں۔ آج تیراہ خیبر پختونخوا حکومت کی بے حسی اور عدم توجہی کی ایک واضح مثال بن چکا ہے۔

 

تیراہ کے متاثرین یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں کہ انہی کے آبائی علاقے سے تعلق رکھنے والا وزیرِ اعلیٰ اور متعدد صوبائی وزراء، جو انتخابی دنوں میں ہر گاؤں، ہر حجرے اور ہر جرگے میں ووٹ مانگنے پہنچتے تھے، آج انہی لوگوں کو تنہا چھوڑ چکے ہیں۔ آج وہ 804 کے نعرے لگا کر سرکاری پروٹوکول، قافلوں اور ملک گیر دوروں میں مصروف ہیں، جبکہ ان کے اپنے لوگ سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

 

یقیناً کسی رہنما کی رہائی کے لیے احتجاج کرنا، جدوجہد کرنا اور نعرے لگانا آئینی اور قانونی حق ہے، اس سے انکار نہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ وقت اس کا ہے؟

 

یہ وقت شہروں میں نعروں کا نہیں، بلکہ اپنے حلقے کے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ ان کے آنسو پونچھنے، ان کے زخموں پر مرہم رکھنے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا ہے۔ وادی تیراہ کے لوگ آج صرف حکومت سے نہیں، بلکہ ریاست سے بھی ناراض دکھائی دیتے ہیں۔

 

یہ بھی حقیقت ہے کہ آپریشن شروع کرنا یا روکنا وزیرِ اعلیٰ کے دائرہ اختیار میں نہیں، مگر متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا، ان کے مسائل سننا، ان کے لیے سہولیات پیدا کرنا اور ان کی عزتِ نفس کو بحال رکھنا تو ممکن ہے۔ 

 

جن راستوں سے یہ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، جس اذیت، تذلیل اور کرب سے وہ گزر رہے ہیں، اس میں ان کا ساتھ دینا کسی اختیار کا محتاج نہیں۔

 

وزیرِ اعلیٰ خود بھی اس جنگ کے دن دیکھ چکے ہیں، وہ بھی اس اذیت سے گزر چکے ہیں۔ مگر یاد رکھیے، جب آپ اگلی بار وادی تیراہ ووٹ مانگنے جائیں گے تو یہ محروم اور احساسِ کمتری کے شکار لوگ آپ کو وہ عزت نہیں دیں گے، جس کے وہ کبھی قائل تھے۔

 

 آج سرکاری پروٹوکول اور دوروں پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ ان متاثرین کا حق تھا، جو آج بے عزتی کے ساتھ اپنے گھروں سے بے دخل کیے جا رہے ہیں۔

 

یہ صرف نقل مکانی نہیں، بلکہ اجتماعی سزا ہے — ایک ایسی سزا جو نسل در نسل دی جا رہی ہے۔ اور جب تیراہ کے متاثرین یہ دیکھتے ہیں کہ انہی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے وزراء اقتدار کی آسائشوں میں مصروف ہیں، تو یہ محض مایوسی نہیں ہوتی، بلکہ ریاست سے آخری امید کے ٹوٹنے کا لمحہ ہوتا ہے۔