عظمی اقبال
مینگورہ، جو اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز پہاڑوں اور سیاحتی اہمیت کی وجہ سے نہ صرف سوات بلکہ پورے ملک میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، آج کل ایک بڑے ترقیاتی منصوبے کے باعث شدید مشکلات کی لپیٹ میں ہے۔ وہ شہر جو کبھی کشادہ سڑکوں، رواں ٹریفک اور آسان روزمرہ زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج جگہ جگہ کھودے گئے گڑھوں، ٹریفک جام اور ٹوٹی سڑکوں کا منظر پیش کر رہا ہے۔
پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے شروع کیے گئے منصوبے کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں جاری کھدائی نے اگرچہ مستقبل میں سہولت کی امید پیدا کی ہے، مگر موجودہ حالات میں یہ منصوبہ شہریوں کے لیے ایک آزمائش بن چکا ہے۔ خاص طور پر خواتین، بیمار افراد، بچے اور بزرگ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جن کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ کام شروع کرنے سے قبل نہ تو ان سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی ان کے مسائل کو پیشِ نظر رکھا گیا۔
عوامی مشکلات اور زمینی حقائق
مقامی رہائشی اور خویندو جرگہ تنظیم کی سربراہ خاتون تبسم عدنان کا کہنا ہے کہ یہ کھدائی کوئی نئی بات نہیں بلکہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ کئی ماہ گزر چکے ہیں، مگر اس دوران حکام نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اس سے عوام کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کے مطابق “شروع میں ہمیں لگا تھا کہ شاید یہ لوگ ہم سے مشورہ کریں گے، مگر کسی نے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ ہمارے گھروں کے سامنے اس قدر گہری کھدائی کی گئی ہے کہ راستے سے گزرنا مشکل ہو گیا ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے۔”
تبسم عدنان نے بتایا کہ وہ خود گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں اور سرجری بھی کروا چکی ہیں، ایسے میں ناہموار اور کھودے گئے راستوں سے گزرنا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف ان تک محدود نہیں بلکہ بچے اور دیگر خواتین بھی روزانہ ان مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دنوں حاملہ خواتین کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بعض علاقوں میں نہ تو ایمبولینس جا سکتی تھی اور نہ ہی عام گاڑیوں کے لیے راستے قابلِ استعمال تھے۔
“ایک دن ہمیں اس کا بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا، جب میرے بھتیجے کے آپریشن کے دوران ایمبولینس راستے کی خرابی کے باعث وقت پر نہیں پہنچ سکی۔”
تبسم عدنان کے مطابق حکام نے امتیازی رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری افسران اور اعلیٰ حکام کے گھروں کو جانے والے راستوں کو نہیں کھودا گیا، جبکہ غریب علاقوں کی سڑکیں کھود کر چھوڑ دی گئیں۔
بارش کے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔ جگہ جگہ پانی کھڑا ہو جاتا ہے، حادثات پیش آتے ہیں اور لوگ گڑھوں میں گر جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے خواتین گھروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں، نہ وہ ہسپتال جا سکتی ہیں اور نہ ہی اپنی ملازمتوں پر۔

صحت، معیشت اور حکومتی مؤقف
تبسم عدنان نے پینے کے پانی کے معیار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ماضی میں ہینڈ پمپ کا منصوبہ ناکام ہوا تھا، جس کے پانی میں بدبو اور گندگی پائی جاتی تھی۔
“ہمیں یہ بتایا جائے کہ پانی واقعی صاف ہے۔ اگر ٹیسٹ رپورٹس ہمارے سامنے پیش کی جائیں تو ہم قبول کریں گے، ورنہ ہم اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کو خطرے میں کیوں ڈالیں؟ ”
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سیوریج نظام کے قریب سے گزرنے والی لائنوں کے باعث پانی آلودہ ہو سکتا ہے، جس سے مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا اندیشہ ہے۔
شہریوں کی جانب سے پینے کے پانی کے معیار پر اٹھائے جانے والے سوالات محض خدشات نہیں بلکہ صحتِ عامہ سے جڑا ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر پانی کی فراہمی کے منصوبوں میں شفافیت اور معیاری جانچ کو یقینی نہ بنایا جائے تو اس کے اثرات براہِ راست عوام کی صحت پر پڑتے ہیں، جن کے نتائج طویل المدتی اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔
اس حوالے سے طبی ماہر، سابق ایم ایس خوازہ خیلہ ہسپتال اور سوات میڈیکل کالج کے لیکچرار ڈاکٹر فضل حنان کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی انسانی صحت کے لیے ایک خاموش خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق گندے یا غیر معیاری پانی کے استعمال سے ہیضہ، پیچش، مختلف وائرسز اور ہیپاٹائٹس اے اور بی جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔
کھدائی کے باعث کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ چار باغ سے تعلق رکھنے والے زمیندار اختر علی نے بتایا کہ وہ اپنی سبزیاں فروخت کرنے کے لیے روزانہ مینگورہ آتے تھے، جس سے انہیں مناسب منافع حاصل ہوتا تھا۔
“انہوں نے کہا کہ پہلے یہ سفر ایک گھنٹے میں طے ہو جاتا تھا، مگر اب وہی فاصلہ تین گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ بعض اوقات پورا دن ٹریفک میں گزر جاتا ہے۔ میں ایک غریب آدمی ہوں، اس لیے میں نے گزشتہ دو ماہ سے مینگورہ آنا چھوڑ دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ خراب سڑکوں اور ٹریفک کی صورتحال نے نہ صرف ان کے کاروبار کو متاثر کیا بلکہ خریدار بھی کم ہو گئے ہیں، جبکہ کام کی تکمیل کے وعدے تو روز کیے جاتے ہیں مگر عمل کہیں نظر نہیں آتا۔
انتظامیہ کے مطابق مینگورہ میں جاری کھدائی وقتی مشکلات کا باعث ضرور بن رہی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ شہر کی مستقبل کی آبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد طویل المدتی بنیادوں پر پانی کی قلت جیسے مسئلے سے نمٹنا ہے۔
اس حوالے سے جنرل منیجر اور چیف انجینئر (آپریشنز اینڈ انجینئرنگ سروسز) ذیشان پرویز نے ٹی این این کو بتایا کہ یہ منصوبہ خیبر پختونخوا سٹیز امپروومنٹ پروجیکٹ ( کے پی- سی آئی پی) کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ جس میں منگورہ شہر بھی شامل ہے۔ اور یہ منصوبہ تیس ارب روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گشکوڑ میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کیا جا رہا ہے، جہاں سے پائپ لائن کے ذریعے مختلف علاقوں میں واٹر ٹینکس بنائے جا رہے ہیں، اور وہاں سے پانی کی تقسیم کا نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔

ذیشان پرویز کے مطابق سیلاب کے باعث کچھ کام میں تاخیر ضرور ہوئی، کیونکہ درآمد شدہ پائپ لائن کو نقصان پہنچا تھا، تاہم اب کام دوبارہ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ٹریفک میں اس لیے روکا جاتا ہے تاکہ کام میں مزید تاخیر نہ ہو اور منصوبہ جلد مکمل کیا جا سکے۔ مرکزی سڑکوں پر رات کے وقت کام کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو کم سے کم پریشانی ہو۔ ان کے مطابق اس ماہ کے اختتام تک مین روڈز پر کام مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ باقی منصوبہ آئندہ تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 500 سے زائد شکایات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے، جبکہ جن علاقوں میں کام رکا ہوا ہے وہاں مقامی سطح پر اختلافات حائل ہیں۔ ان کے مطابق کھدائی کے بعد تین دن کے اندر سڑکوں اور گلیوں پر مٹی ڈال دی جاتی ہے، اور فراہم کیا جانے والا پانی مکمل طور پر صاف اور پینے کے قابل ہے، جس سے کسی قسم کی بیماری پھیلنے کا کوئی خدشہ نہیں۔ اگر کوئی شہری پانی کا ٹیسٹ خود کروانا چاہے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔
