خیبر کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق وادی تیراہ میدان سے نقل مکانی کا عمل بدستور جاری ہے جبکہ پائندہ چینہ میں قائم رجسٹریشن مرکز پر متاثرہ خاندانوں کی رجسٹریشن کا عمل بھی جاری ہے۔ انتظامیہ کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران تقریباً 2 ہزار 400 خاندانوں کی بائیومیٹرک تصدیق، بینک اکاؤنٹس اور موبائل سمز کا اجرا کیا جا چکا ہے۔
ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ وی سی چیئرمینز اور پولیو ڈیٹا کے مطابق وادی تیراہ میدان میں مجموعی طور پر 19 ہزار 100 خاندان مقیم تھے۔ تاہم پشاور، بازار زخہ خیل اور باڑہ سے بھی افراد کی بڑی تعداد رجسٹریشن کے لیے پائندہ چینہ پہنچ رہی ہے، جس کے باعث شدید رش اور اصل متاثرین کی حق تلفی ہو رہی ہے۔
انتظامیہ نے وادی تیراہ میدان کے نامزد مشران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حقیقی متاثرین کو ان کا حق دلانے میں کردار ادا کریں۔
وادی تیراہ برقمبر خیل سے تعلق رکھنے والے شیر علی آفریدی نے ٹی این این کو بتایا کہ اصل متاثرین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق رجسٹریشن مراکز پر وادی تیراہ میدان کے اصل مکینوں کے بجائے غیر مقامی افراد کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے، جبکہ کئی خاندان تین تین راتیں سردی میں گزارنے کے باوجود رجسٹر نہیں ہو سکے۔
متاثرہ شخص آصف آفریدی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے گاڑیوں کے کرایے کی ادائیگی کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم تاحال کرایہ ادا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ رجسٹریشن مراکز پر اثر و رسوخ اور سفارش کی بنیاد پر غیر مقامی افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
بدامنی کے باعث وادی تیراہ سے نقل مکانی کا آغاز گزشتہ سال نومبر میں ہوا تھا، تاہم جرگوں اور مذاکرات کے بعد حکومت نے 10 جنوری سے باضابطہ رجسٹریشن پر اتفاق کیا۔
پانچ جنوری سے لوگ خود ہی نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے، مگر انٹرنیٹ اور تکنیکی مسائل کے باعث رجسٹریشن کا عمل تاخیر کا شکار رہا۔ پانچویں روز بھی نادرا کے نظام میں تکنیکی خرابیوں کے باعث رجسٹریشن سست روی سے جاری رہی۔
پائندہ چینہ کے مقام پر رجسٹریشن مرکز کے باہر سامان سے بھری ہوئی گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور مویشی موجود ہیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے شدید سردی میں کھلے آسمان تلے رات گزاری، جبکہ کھانے پینے اور رہائش کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں تھا۔
ضلعی حکام کے مطابق نادرا کے نظام میں مسائل اور شناختی کارڈز پر مختلف علاقوں کے پتے درج ہونے کی وجہ سے رجسٹریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، تاہم مسائل کے حل کے لیے مقامی عمائدین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔
یہ وادی تیراہ سے دوسری بڑی نقل مکانی ہے۔ 2013 میں فوجی آپریشن کے باعث بھی مقامی آبادی نے نقل مکانی کی تھی، جس کے بعد مرحلہ وار واپسی ممکن ہوئی۔
حالیہ بدامنی کے پیش نظر مقامی عمائدین پر مشتمل 24 رکنی کمیٹی نے 21 دسمبر کو سیکیورٹی اور ضلعی حکام کے ساتھ نقل مکانی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت 25 جنوری تک علاقہ خالی کرانے اور آپریشن کے بعد اپریل میں مرحلہ وار واپسی کا اعلان کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو گاڑی کا کرایہ، گھروں کے نقصانات کا معاوضہ اور بائیومیٹرک تصدیق کے بعد نقد امداد فراہم کی جائے گی۔ تاہم رجسٹریشن میں تاخیر اور سہولیات کی کمی کے خلاف خیبر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے، جس کے باعث پاک افغان شاہراہ پر ٹریفک متاثر ہوئی۔
سیاسی و سماجی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رجسٹریشن کے عمل میں شفافیت یقینی بنائی جائے، اصل متاثرین کو فوری سہولیات فراہم کی جائیں اور شدید سردی میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کی مشکلات کا فوری ازالہ کیا جائے۔
