ہمارے معاشرے میں اکثر ماؤں کو یہ طعنہ سننا پڑتا ہے:
“تمہارے تو بیٹے باہر ہیں، پھر تمہیں کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟”
یہ جملہ سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، حقیقت میں کسی ماں کے دل میں تیر بن کر اترتا ہے۔ کیونکہ وہ ماں جانتی ہے کہ پردیس صرف پیسہ یا سہولت کا نام نہیں، پردیس سب سے پہلے قربانی ہے،ایسی قربانی جس کا درد صرف وہی ماں سمجھ سکتی ہے جس کے جگر کے ٹکڑے ہزاروں میل دور، محنت کی چکی میں پس رہے ہوں۔
پردیس کی زندگی باہر سے جتنی روشن دکھائی دیتی ہے، اندر سے اتنی ہی سخت، بے رحم اور تنہا ہوتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ بیٹے باہر جا کر عیش کر رہے ہیں، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
وہاں ویزا ایک کام کے نام پر ہوتا ہے، مگر کام کئی کئی ہوتے ہیں—بارہ بارہ گھنٹے کی ڈیوٹیاں، اوور ٹائم، چھٹی کے دن بھی کام۔ جسم تھک جاتا ہے، مگر زبان پر شکایت نہیں آتی، کیونکہ ایک شکایت نوکری چھن جانے کا سبب بن سکتی ہے۔
پردیس میں نوجوان اپنی جوانی کے قیمتی ترین سال مشینوں، فیکٹریوں اور تعمیراتی کاموں کی نذر کر دیتے ہیں۔ نہ کوئی اپنا ہوتا ہے، نہ کوئی سننے والا۔ چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے، مگر دل میں خاموشی بسی ہوتی ہے۔ دن رات کی محنت کے بعد جو کمائی ہوتی ہے، اس کا بڑا حصہ کرایوں، بلوں اور سفر میں نکل جاتا ہے۔
جو تھوڑا بہت بچتا ہے، وہ پاکستان میں گھر والوں کو بھیج دیا جاتا ہے۔ وہ اپنی خواہشیں دل میں دفن کر دیتے ہیں، مگر ماں باپ اور بچوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ خود تنگ کمروں میں رہتے ہیں، مگر والدین کے لیے گھر میں اے سی لگوا دیتے ہیں؛ خود سادہ کھانا کھاتے ہیں، مگر بچوں کے لیے مہنگے اسکول کی فیس ادا کرتے ہیں۔
پردیس کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اکثر پاکستانی، پاکستانی ہی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ غلط ایجنٹ، جھوٹے وعدے، کم تنخواہ اور بے تحاشا کام، کئی نوجوان بیماری یا حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں، جہاں علاج نہ آسان ہوتا ہے نہ سستا۔
بعض اوقات بیمار پردیسی کو وطن واپس آنا پڑتا ہے، اور وہ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ نوکری اور خواب بھی کھو بیٹھتا ہے۔
عید کے دنوں میں، جب ہر طرف خوشیاں ہوتی ہیں، کئی گھروں کے آنگن سنسان رہ جاتے ہیں۔ مائیں اور بچے دروازے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں، دل میں امید لیے، مگر وہ جانتے ہیں کہ باپ یا بیٹا اس بار بھی نہیں آئے گا۔
پردیس کا سب سے بڑا اور سب سے بھاری دکھ وہ ہے جس کا کوئی وزن نہیں۔ تین تین، چار چار بیٹے پردیس میں ہوتے ہیں، اور ماں یا باپ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ بیٹے ویزا، چھٹی اور ٹکٹ کے انتظار میں رہ جاتے ہیں، اور جنازہ قبر میں اتر جاتا ہے۔ وہ ویڈیو کال پر آخری دیدار کرتے ہیں، اور پھر ساری زندگی خود کو معاف نہیں کر پاتے۔
اس لیے کسی کے دکھ پر طنز کرنے سے پہلے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ پردیس صرف پیسہ نہیں، بلکہ صبر، قربانی اور خاموش درد کا نام ہے۔ وہ والدین جو اپنے بچوں کو ہزاروں میل دور بھیجتے ہیں، ہر لمحہ ان کی فکر میں رہتے ہیں؛ اور وہ بیٹے جو اپنی جوانی، خوشیاں اور سکون قربان کر کے گھر والوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں—وہی اس درد کی اصل قیمت جانتے ہیں۔
