شاہ نواز آفریدی
وادی تیراہ کے متاثرین کی شفاف اور منصفانہ رجسٹریشن کے لیے جامع لائحہ عمل ترتیب دے دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رجسٹریشن کے عمل کو مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا تاکہ اصل متاثرین کی حق تلفی روکی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں متاثرین کو وادی تیراہ باغ مرکز میں ٹوکن جاری کیے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں خاندانوں کی بائیو میٹرک تصدیق باغ مرکز سے دور باڑہ کی جانب پائندہ چینہ کے عارضی کیمپ میں کی جائے گی، جبکہ کرایہ کی مد میں نقد رقم وادی تیراہ باغ مرکز سے تقریباً سو کلومیٹر کے فاصلے پر پشاور کی سمت باڑہ کے نواحی علاقے سپاہ منڈی کس میں ادا کی جائے گی۔
تیراہ کی 24 رکنی کمیٹی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب پشاور اور کھجوری باڑہ میں مقیم باڑہ کے متعدد افراد نے پائندہ چینہ پہنچ کر بڑی تعداد میں اندراج شروع کر دیا، جس کے باعث اصل متاثرین متاثر ہو رہے تھے۔
اس صورتحال میں وہ خاندان جو آپریشن سے براہِ راست متاثر ہیں، نہ صرف رجسٹریشن سے محروم ہو رہے تھے بلکہ معاوضے کے حصول میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق راستوں کی بندش اور غیر ضروری رش کے باعث وادی تیراہ کے اصل حقدار اور بے گھر قبائل کے اندراج سے رہ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
رجسٹریشن کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ پشاور اور کھجوری باڑہ سے صرف انہی گاڑیوں کو پائندہ چینہ جانے کی اجازت دی جائے گی جو نقل مکانی کرنے والے متاثرہ خاندانوں کو لے کر آئیں گی، جبکہ صرف اندراج کی غرض سے آنے والے افراد کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے وادی تیراہ کے اصل متاثرین کو ان کا جائز حق بروقت اور شفاف طریقے سے فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب سابق وفاقی وزیر حمیداللہ جان آفریدی نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کے لیے پائدہ چینہ اور بعد ازاں تیراہ میدان مرکزی باغ کا دورہ کیا۔
اس موقع پر انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر باڑہ طلحہ رفیق، تحصیلدار داؤد آفریدی اور 24 رکنی کمیٹی کے ذمہ داران مولانا حضرت خان، کمال الدین اور اکبر خان سے ملاقات کی۔
حمیداللہ جان آفریدی نے متعلقہ حکام سے رجسٹریشن پوائنٹس پر عملے کی تعداد بڑھانے، ارہنگہ اور سیڑے کنڈاو کے راستے کھولنے، رجسٹریشن میں قبیلہ ذخہ خیل کو شامل کرنے اور مانڑے، زنگی، درے نغری، سنڈاپال، دروٹہ اور تختکی سمیت دیگر علاقوں کو بھی رجسٹریشن عمل میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کے ہمراہ خیبر یونین پاکستان کے سابق صدر بازار گل آفریدی، حاجی حلیم شاہ، گل احمد، تراب علی، ابراہیم اور کبیر بھی موجود تھے۔
حمیداللہ جان آفریدی نے مزید کہا کہ وہ وادی تیراہ کے متاثرین کے مسائل کے حل اور سہولیات کی فراہمی کے لیے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے اور اس حوالے سے فوری اقدامات پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔
