کیا ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں سے دوستی کی قیمت ہمیشہ ان کا قتل ہی ہوگی؟
اگر نئے سال کا آغاز ہی قتل و غارت سے ہو تو اس سال کے اختتام کا تصور کتنا افسوسناک ہو سکتا ہے؟ اور وہ بھی ایسے طبقے کے فرد کا قتل، جو پہلے ہی ہمارے معاشرے میں محض اپنی جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک، نفرت اور تشدد کا شکار ہے۔
3 جنوری کو پشاور میں خواجہ سرا باسط عرف بجلی کے قتل نے کئی تلخ حقیقتوں کو پھر سے بے نقاب کر دیا۔ اس واقعے نے مجھے کچھ عرصہ قبل پیش آنے والا ایک واقعہ یاد دلا دیا، جو آج کے حالات کے تناظر میں لکھنا ضروری محسوس ہوا۔
ایک دن میں اپنی سہیلی کے ساتھ سکن کیئر کلینک میں نمبر کے انتظار میں بیٹھی تھی۔ ساتھ بیٹھی خاتون خواجہ سرا تھیں۔ سلام دعا کے بعد گفتگو شروع ہوئی۔
کئی موضوعات پر بات ہوئی، مگر ایک بات ایسی تھی جس نے مجھے شدید حیرت میں مبتلا کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ رکشے میں گھر جا رہی تھیں کہ رکشہ ڈرائیور بار بار آئینے میں انہیں گھورنے لگا۔
کچھ دیر بعد اس نے رکشے کا رخ بدل کر سنسان راستے کی طرف موڑ دیا۔ خوف کے عالم میں انہوں نے چیخنا شروع کیا، جس پر ڈرائیور انہیں راستے میں ہی اتار کر فرار ہو گیا۔
مگر اس لمحے سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ وہاں موجود لوگ ڈرائیور کو روکنے یا ان کی مدد کرنے کے بجائے ان پر ہنسنے لگے اور تضحیک آمیز القاب سے پکارنے لگے۔
اس لمحے انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ اگر یہی واقعہ کسی عام لڑکی کے ساتھ پیش آتا تو کیا معاشرے کا ردعمل بھی یہی ہوتا؟ یہ سوال دراصل ہمارے سماج میں جنس کی بنیاد پر موجود دوہرے معیار اور گہرے تعصبات کو بے نقاب کرتا ہے۔
یہ کوئی واحد واقعہ نہیں۔ متعدد کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ رات کی محفلوں میں خواجہ سراؤں پر ہزاروں اور لاکھوں روپے نچھاور کیے جاتے ہیں، مگر محفل کے اختتام پر وہی لوگ اسلحے کے زور پر یہ رقم واپس چھین لیتے ہیں۔ یا صبح ہوتے ہی کئی خواجہ سراؤں کے دروازوں پر دستک دیتے ہیں اور انہیں زبردستی جنسی تعلق یا خفیہ دوستی پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر خواجہ سراؤں کو محض دوستی سے انکار کرنے پر قتل کر دیا جاتا ہے، یا کسی اور سے دوستی رکھنے کی سزا موت کی صورت میں دی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں سے صرف دوستی کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا اور سماجی تعلقات رکھنا ہمیں معیوب لگتا ہے تو پھر ان کے ساتھ خفیہ تعلقات، جنسی استحصال، محفلوں میں پیسے لٹانا یا ان سے بھتہ لینا کیوں برا نہیں سمجھا جاتا؟
خواجہ سرا ایک ایسا طبقہ ہیں جو ہمارے معاشرے میں مسلسل امتیازی سلوک، ہراسانی اور تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے، جہاں خواجہ سرا افراد کے خلاف تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پچھلے دس سالوں کے دوران خیبر پختونخوا میں 157 خواجہ سراؤں کو قتل کیا جا چکا ہے تاہم خیبر پختونخوا پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے پہلے سات ماہ میں 15 خواجہ سراؤں کے قتل کے کیسز درج ہوئے ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
خواجہ سرا کمیونٹی سے وابستہ تنظیموں کے مطابق اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ متعدد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
ان حملوں کی وجوہات میں سماجی رویے، لاعلمی اور خواجہ سراؤں کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں شامل ہیں۔ بعض اوقات انہیں اپنے ہی رشتہ داروں کے ہاتھوں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے محض بیانات کافی نہیں۔ خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور اس پر عملی طور پر سخت عمل درآمد ناگزیر ہے۔
تشدد کے ہر واقعے کی فوری، شفاف اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مجرموں کو سزا ملے اور ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کے لیے نفسیاتی اور سماجی معاونت فراہم کرنا، اور معاشرے میں ان کے خلاف موجود منفی رویوں کو بدلنے کے لیے تعلیمی و آگاہی پروگرام شروع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کیونکہ جب تک خواجہ سراؤں کو مکمل انسان تسلیم نہیں کیا جائے گا، تب تک ہمارے معاشرے میں انسانیت سوالیہ نشان بنی رہے گی۔
