خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں بچوں کے لیے تیار کیے گئے چپس کے ایک  پیکٹ سے پستول کی گولی برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ جس کے بعد علاقے کے والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

 

ویلج چئیرمین حاجی خان شینواری نے بتایا کہ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی خوراک میں اس نوعیت کی چیز کا پایا جانا سنگین غفلت کے مترادف ہے اور اس کے بچوں کے ذہنی و نفسیاتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

 والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

 

سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ واقع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خوراک تیار کرنے والی کمپنیاں حفاظتی اصولوں پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ 

 

متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوڈ سیفٹی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔

 

اس حوالے سے لنڈی کوتل کے ایس ایچ او زاہد خان نے بتایا کہ واقعے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور لنڈی کوتل بازار کے انچارج کو فوری طور پر احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

 

 ان کا کہنا ہے کہ جس دکاندار نے مذکورہ چپس فروخت کیے ہیں، اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ذمہ دار کمپنی  کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔