ضلع خیبر میں مٹر کی فصل رواں سیزن میں بھی بہتر زرعی نتائج کے ساتھ تیار ہوئی ہے، جس سے مقامی کسانوں میں اطمینان پایا جاتا ہے۔

 

 زرعی ماہرین کے مطابق موجودہ فصل سے معیاری پیداوار حاصل ہوئی ہے اور کسانوں کو رواں سال بھی مناسب مالی فوائد حاصل ہونے کا امکان ہے۔

 

گزشتہ سال ضلع خیبر میں پیدا ہونے والی مٹر نے نہ صرف ملکی طلب پوری کی بلکہ قطر اور سعودی عرب کو بھی برآمد کی گئی، جس کے باعث ضلع خیبر نے پاکستان میں مٹر کی پیداوار کے حوالے سے سرفہرست پوزیشن حاصل کی، یہ پیش رفت محکمہ زراعت ضلع خیبر کی تکنیکی معاونت، کسانوں کی منظم تربیت اور فیلڈ لیول پر مسلسل رہنمائی کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔

 

صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے زرعی شعبے کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات اور تعاون نے بھی اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 

 

کسانوں نے مٹر کی کاشت کے لیے جدید ورٹیکل سپورٹ سسٹم اپنایا، جس کے باعث فصل کی نشوونما بہتر رہی اور فی ایکڑ پیداوار میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی۔

زرعی ماہرین کے مطابق کھیتی باڑی کے دو بنیادی طریقے رائج ہیں۔ 

 

ہورائزنٹل فارمنگ روایتی طریقہ ہے جس میں فصلیں زمین کی سطح پر کھلے کھیتوں میں کاشت کی جاتی ہیں اور پاکستان میں یہی طریقہ زیادہ مستعمل ہے کیونکہ اس میں لاگت نسبتاً کم اور بڑے رقبے پر کاشت ممکن ہوتی ہے۔ 

 

اس کے برعکس ورٹیکل فارمنگ ایک جدید زرعی طریقہ ہے جس میں فصلیں سہاروں یا مختلف سطحوں پر اگائی جاتی ہیں، جس سے کم زمین اور کم پانی میں بہتر پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

 

 ترقی یافتہ ممالک اور شہری علاقوں میں زمین کی محدود دستیابی کے باعث اس طریقہ کار کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

 

محکمہ زراعت کی ہدایات کے تحت ضلع خیبر میں واکنگ ٹنل (Walking Tunnel) کے ذریعے ٹماٹر کی کاشت بھی جاری ہے، جہاں جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال سے فصل کے معیار اور پیداوار میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

 

 یہ اقدامات مقامی کسانوں کی تکنیکی استعداد میں اضافے اور محکمہ زراعت کی مؤثر رہنمائی کی عکاسی کرتے ہیں۔

 

محکمہ زراعت ضلع خیبر، صوبائی حکومت خیبر پختونخوا اور کسانوں کی مشترکہ کاوشوں سے یہ زرعی سرگرمیاں مؤثر انداز میں جاری ہیں، جو مقامی معیشت کے استحکام کے ساتھ ساتھ ملکی زرعی برآمدات کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہیں۔