ضلع کرم کے علاقے پاراچنار میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) کے صفائی عملے کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ 

 

برطرف ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے عارضی بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے تھے، تاہم حال ہی میں انہیں بغیر کسی وجہ کے فارغ کر دیا گیا۔

 

برطرف عملے میں شامل افراد، جن کا تعلق مسیحی برادری سے ہے، کا کہنا ہے کہ وہ قیامِ پاکستان سے قبل پاراچنار میں آباد ہیں اور طویل عرصے سے میونسپل کمیٹی میں صفائی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

 

 ملازمین کے مطابق گزشتہ پانچ سال سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، اس کے باوجود وہ اپنے فرائض جاری رکھتے رہے۔

 

صفائی عملے نے اپنی برطرفی کے خلاف پاراچنار پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ انہیں عارضی ملازمت سے بھی محروم کر دیا گیا ہے جبکہ ان کی جگہ دیگر افراد کو رکھا جا رہا ہے۔

 

ملازمین نے بتایا کہ کئی سالوں سے اب تک انہیں تنخواہوں، پنشن اور دیگر حقوق کی عدم فراہمی سمیت متعدد مسائل کا سامنا رہا، جس کے باعث ان کے گھروں میں مالی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ 

 

ان کا کہنا ہے کہ ٹی ایم اے میں ملازمت کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا روزگار نہیں ہے۔

 

دوسری جانب تحصیل چیئرمین  آغا مزمل حسین نے بتایا کہ ملازمین کی تعداد زیادہ اور وسائل محدود ہیں، تاہم صفائی عملے کو دوبارہ ڈیلی ویجز پر رکھا جائے گا۔

 

واضح رہے کہ پاراچنار میں مسیحی برادری طویل عرصے سے صفائی کے شعبے سے وابستہ ہے۔ برطرف ملازمین نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواسہیل آفریدی اور چیف سیکریٹری سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے حقوق کی بحالی اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔