پاکستان میں خواتین کے موبائل انٹرنیٹ استعمال میں 2025 کے دوران 12 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ڈیجیٹل شعبے میں صنفی فرق کم ہونے کی اہم علامت سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی سالانہ رپورٹ 2025 کے مطابق، اب 18 سال سے زائد عمر کی 45 فیصد خواتین موبائل انٹرنیٹ استعمال کر رہی ہیں، جو 2024 میں 33 فیصد تھی۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں تقریباً 80 لاکھ خواتین پہلی بار موبائل انٹرنیٹ سے منسلک ہوئیں، جبکہ 2017 میں پاکستان میں صرف 10 فیصد خواتین موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتی تھیں، جو گزشتہ آٹھ سالوں میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت میں واضح ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔
پی ٹی اے نے بتایا کہ خواتین میں انٹرنیٹ استعمال میں اضافے کی اہم وجوہات میں 4G نیٹ ورک کی توسیع، اسمارٹ فونز کی سستی دستیابی، ڈیجیٹل آگاہی میں اضافہ، اور آن لائن تعلیم و کاروباری مواقع شامل ہیں۔
موبائل انٹرنیٹ خواتین کے لیے معلومات، تعلیم، صحت اور روزگار تک رسائی کا ایک مؤثر ذریعہ بن رہا ہے۔
اگرچہ خواتین میں ڈیجیٹل شمولیت میں اضافہ ہوا ہے، مردوں کے مقابلے میں ابھی بھی فرق موجود ہے۔
2025 میں مردوں کے موبائل انٹرنیٹ استعمال کی شرح تقریباً 75 سے 80 فیصد رہی، جو خواتین کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ہے، تاہم یہ فرق گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہوا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیہی اور قدامت پسند علاقوں میں خواتین اب بھی ثقافتی رکاوٹوں، کم ڈیجیٹل خواندگی اور آن لائن تحفظ کے خدشات کی وجہ سے انٹرنیٹ تک محدود رسائی رکھتی ہیں۔
پی ٹی اے نے خواتین کے لیے مخصوص ڈیجیٹل تربیتی پروگرامز، محفوظ آن لائن ماحول اور کم لاگت انٹرنیٹ سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ڈیجیٹل صنفی فرق کو مزید کم کیا جا سکے۔
ملک میں فی الحال 15 کروڑ سے زائد براڈبینڈ صارفین ہیں، جن میں اکثریت موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی ہے۔ ماہرین کے مطابق خواتین کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل شمولیت سماجی ترقی اور معیشت میں حصہ بڑھانے کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
