اتوار کی علی الصبح، ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر کے علاقے خیر آباد میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔ ایک غریب گھرانے میں شادی کی خوشیاں ابھی پوری طرح سمیٹی بھی نہ گئی تھیں کہ اچانک چھت گرنے سے چھ زندگیاں ملبے تلے دفن ہو گئیں۔

ہفتے کی رات اسی گھر میں بارات آئی تھی۔ دلہا کے کمرے میں، جو نسبتاً کشادہ تھا، خاندان کے کئی افراد سوئے ہوئے تھے کیونکہ گھر کے دیگر کمرے چھوٹے تھے۔ اتوار کی صبح ولیمے کی تیاری ہونی تھی، مگر صبح ہونے سے پہلے ہی وہ کمرہ، جو خوشیوں کا مرکز تھا، موت کا گہوارہ بن گیا۔

حادثے میں ایک ماں اور اس کے تین معصوم بچے سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ پانچ افراد زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیے گئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ جائے وقوعہ پر ملبے تلے دبے نئے کپڑے، شادی کا سامان اور بکھری گھریلو اشیاء اس المیے کی خاموش گواہی دے رہی تھیں۔

مقامی لوگوں اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں، مگر کئی زندگیاں بچائی نہ جا سکیں۔ معلوم ہوا کہ جاں بحق افراد میں کچھ کا تعلق ضلع خیبر کے علاقے تیراہ سے تھا جبکہ ایک فرد پشاور کا رہائشی تھا۔

اس سانحے نے اس لیے بھی سب کو رنجیدہ کر دیا کہ متاثرہ خاندان پہلے ہی مشکلات کا شکار تھا۔ دلہا کے والد، جو پیشے کے لحاظ سے مستری تھے، چند ماہ قبل ایک تعمیراتی مقام سے گر کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد خاندان کی مالی حالت مزید کمزور ہو چکی تھی، اور اب یہ قیامت خیز حادثہ ان پر ٹوٹ پڑا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ممبر صوبائی اسمبلی عارف احمد زئی اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ذوالفقار خان موقع پر پہنچے، لواحقین سے تعزیت کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ضلعی انتظامیہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے فی کس 10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا، جبکہ فوری ریلیف کے طور پر خیمے، کمبل، کچن سیٹس، حفظانِ صحت کٹس اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا گیا۔

ادھر اہلِ علاقہ بھی غم زدہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ مقامی افراد نے چندہ جمع کر کے متاثرہ خاندان کیلئے رہائش کا بندوبست کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔