نکولس مادورو 2013 سے وینزویلا پر حکمرانی کر رہے ہیں، جب ان کے سیاسی سرپرست اور سابق صدر ہوگو شاویز کا انتقال ہوا۔ ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط ان کے دورِ اقتدار کے دوران وینزویلا شدید سیاسی بحران، اقتصادی بحران اور عالمی تنہائی کا شکار رہا ہے۔

تیل کے وسیع ذخائر کے باعث کبھی لاطینی امریکہ کے خوشحال ترین ممالک میں شمار ہونے والا وینزویلا، مادورو کی قیادت میں شدید مہنگائی، خوراک اور ادویات کی قلت، اور بنیادی عوامی خدمات کے نظام کے انہدام سے دوچار ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق حالیہ برسوں میں سات ملین سے زائد وینزویلا کے شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جو دنیا کے سب سے بڑے مہاجر بحرانوں میں سے ایک ہے۔ ان میں بڑی تعداد نے پڑوسی ممالک اور امریکا کا رخ کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مادورو نے عدلیہ، انتخابی نظام اور فوج سمیت ریاستی اداروں پر قبضہ مضبوط کر کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں مرکوز کر لیے ہیں۔ ان کی حکومت پر سیاسی مخالفین کو دبانے، اظہارِ رائے کی آزادی محدود کرنے اور ناقدین کو قید کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے من مانی گرفتاریوں، تشدد اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔

2024 کے صدارتی انتخابات کو بین الاقوامی اور آزاد مبصرین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ انتخابات شفافیت اور آزادی کے بنیادی معیار پر پورا نہیں اترے۔ انتخابات کے بعد امریکا اور متعدد دیگر ممالک نے مادورو کو وینزویلا کا جائز صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

مادورو ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وینزویلا کے اقتصادی بحران کا ذمہ دار امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا ان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور وینزویلا کے تیل سمیت قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

تاہم امریکا کا دعویٰ ہے کہ نکولس مادورو کو دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت متعدد الزامات کے تحت امریکی قانونی نظام کے سامنے پیش کرنے کے لیے امریکا منتقل کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے وینزویلا کی قیادت اور حکمرانی کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور ملک میں پہلے سے موجود سیاسی و اقتصادی بے یقینی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔