لنڈی کوتل بازار باچا خان چوک میں پاک افغان طورخم بارڈر کی طویل بندش کے خلاف بڑا احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔ سیاسی جماعتوں، تاجر برادری، مزدور یونینز اور قبائلی عمائدین نے بھرپور شرکت کی۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ طورخم بارڈر فوری طور پر کھولا جائے کیونکہ بندش سے ہزاروں خاندان بے روزگار اور شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ مقررین نے کہا کہ طورخم بارڈر قبائلی علاقوں کے لیے اہم تجارتی مرکز اور روزگار کا بڑا ذریعہ ہے۔
جلسے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قبائلی عوام محب وطن ہیں اور افغانستان کے ساتھ پرامن، باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔ شرکاء نے زور دیا کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ سنجیدہ مذاکرات ہیں اور پاک افغان مذاکرات میں قبائلی مشران کو شامل کیا جائے۔
احتجاج کے اختتام پر دونوں ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی گئی کہ عوام کے معاشی مفاد میں طورخم بارڈر کو فوری طور پر کھولا جائے۔
یاد رہے گزشتہ 85 دنوں سے پاک افغان طورخم بارڈر سمیت افغانستان سے لگی دیگر سرحدیں بند ہیں۔
