گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایبٹ آباد کی ڈاکٹر وردہ کی افسوسناک موت کی خبریں گردش کر رہی تھیں، اور یہ اتنی دردناک تھیں کہ انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔
ڈاکٹر وردہ کو اُس کے ہی بچپن کی دوست نے بے دردی سے قتل کیا، صرف اس لیے کہ وہ چند رقم اور زیورات واپس نہیں کر رہی تھی جو ڈاکٹر وردہ نے اس کے پاس امانت کے طور پر رکھوائے تھے۔
یہ واقعہ سن کر دل واقعی رنجیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ ہم سب اپنی محنت سے دن رات کام کر کے اپنے مستقبل اور بڑھاپے کے لیے دولت جمع کرتے ہیں، مگر کیا پتہ کہ یہی دولت کسی دن ہماری جان کا سبب بن جائے۔
جب بھی میں موبائل آن کرتی ہوں، ڈاکٹر وردہ کے حوالے سے کوئی نہ کوئی پوسٹ نظر آ جاتی ہے۔ یہ واقعہ مجھے بلاگ لکھنے پر مجبور کر گیا تاکہ میں ایک اہم سبق سب کے ساتھ شیئر کر سکوں: کسی پر بھی اندھا بھروسہ نہ کریں، خاص طور پر مال و دولت کے معاملے میں۔
اپنی دولت اور قیمتی سامان کا ذکر کسی سے بھی نہ کریں، بلکہ انہیں خود ہی محفوظ رکھیں۔ آج کے دور میں بینکنگ سہولیات ہر جگہ دستیاب ہیں، اور یہی ہمارے لیے بنائی گئی ہیں تاکہ ہم اپنا قیمتی سامان محفوظ طریقے سے رکھوا سکیں۔
یاد رکھیں، حاسدین، چور اور دشمن کی نظر تیز اور بری ہوتی ہے۔ جتنا ممکن ہو اپنے مال و دولت کو ان سے چھپائیں، کیونکہ یہی لوگ آپ کی دولت کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور تب تک چین سے نہیں بیٹھتے جب تک آپ کو نقصان نہ پہنچا دیں۔
روزانہ ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جن میں قرض یا مال و دولت کی خاطر انسان اپنے قریبی رشتہ دار یا دوست کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتا۔
ڈاکٹر وردہ کے کیس کو ہی دیکھیں، اسے اغوا کے دوران کتنا خوف محسوس ہوا ہوگا؟ اپنی جان بچانے کے لیے کتنی مزاحمت کی ہوگی؟ اپنے بچوں، اپنے والدین، اپنی زندگی کے بارے میں کتنی فکر کی ہوگی؟ اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ کتنی جوان اور مستقبل کی امیدوں سے بھرپور تھی۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مال و دولت کی حفاظت خود کرنا ضروری ہے اور کسی پر مکمل بھروسہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ احتیاط ہر وقت لازم ہے، کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر دوست یا قریبی رشتہ دار بھی ایک جیسا ہو۔
ہمیں بزرگوں سے ہمیشہ یہ نصیحت سننے کو ملتی رہی ہے کہ اپنی چیزیں خود محفوظ کریں تاکہ کل کو کسی پر الزام نہ لگانا پڑے۔ جو چیز چوری ہو گئی ہے، اس پر بحث کے بجائے اسے محفوظ رکھنا بہتر ہے۔
آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گی اپنے مال و دولت، زیورات اور قیمتی سامان کسی پر بھی مکمل بھروسے کے تحت نہ رکھیں، بلکہ خود ہی اس کی حفاظت کریں۔
ملک میں انصاف کے نظام کی صورتحال بھی یہی کہتی ہے کہ حق اور انصاف تک پہنچنا اکثر ممکن نہیں ہوتا یا بہت دیر سے ملتا ہے۔ اس لیے اپنی محنت سے اتنا کمائیں کہ جو بھی چاہیے، آپ خود خرید سکیں۔
