خیبر پختونخوا حکومت کے ہائر ایجوکیشن آرکائیوز اینڈ لائبریریز ڈیپارٹمنٹ نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات اور ڈگری ایوارڈنگ اداروں کو خیبر پختونخوا ریموول فرام سروس ایکٹ 2025 پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اس سلسلے میں جاری مراسلے کے مطابق تمام وائس چانسلرز، ریکٹرز اور ڈائریکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ عبوری حکومت کے دوران بھرتی ہونے والے ملازمین کے متعلق معاملات میں اس ایکٹ پر ہر صورت عمل کیا جائے۔
نگران دور میں بھرتی ہونے والے 645 ملازمین جن 18 جامعات سے وابستہ تھے، ان میں وومن یونیورسٹی مردان، زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، یونیورسٹی آف بونیر، یونیورسٹی آف چترال، یونیورسٹی آف ملاکنڈ، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، باچا خان یونیورسٹی چارسدہ،
انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، یونیورسٹی آف سوات، شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی شیرینگل، بنوں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف لکی مروت، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، شہداء آرمی پبلک سکول یونیورسٹی نوشہرہ، یونیورسٹی آف ہری پور، یونیورسٹی آف پشاور اور پاک آسٹریا یونیورسٹی ہری پور شامل ہیں۔
محکمہ ہائر ایجوکیشن نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے معاملہ پہلے اینوملی کمیٹی اور بعد ازاں وزارتی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا تھا، جبکہ سٹیبلشمنٹ ڈپارٹمنٹ اور لاء ڈپارٹمنٹ سے بھی قانونی رائے لی جا چکی ہے۔
اس تمام عمل کے بعد جامعات کو قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام ادارے دس دن کے اندر محکمہ ہائر ایجوکیشن کو عملدرآمد (Compliance) سرٹیفکیٹ ارسال کریں، بصورت دیگر مقررہ مدت میں رپورٹ جمع نہ کرانے والے اداروں کے خلاف مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
