حفصہ امین
پشاور کا شاہی باغ، جو مغلیہ دور میں تفریح کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، کئی صدیوں کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ باغ آج بھی شہریوں کے لیے تفریح اور خوبصورتی کا ذریعہ ہے۔ مختلف ادوار میں سرکاری دفاتر اور تجاوزات کے باعث اس کا رقبہ کم ضرور ہوا، تاہم پشاور کے باسیوں کے لیے یہ باغ آج بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ حالیہ برسوں میں شاہی باغ کا ایک حصہ خواتین کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔
شاہی باغ میں باقاعدگی سے آنے والی خاتون جویریہ سلیم نے بتایا کہ پہلے یہ جگہ مشترکہ تھی، لیکن اب خواتین کے لیے علیحدہ کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہاں خواتین کے لیے الگ دکانیں بھی بنائی گئی ہیں، جس سے وہ بغیر کسی خوف کے اپنا وقت گزار سکتی ہیں۔ ایک اور خاتون ایمن علی نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ شاہی باغ آتی ہیں اور یہاں آرام سے کھانے پینے اور تفریح کا موقع ملتا ہے۔ بعض خواتین کا کہنا ہے کہ وہ صبح سے شام تک باغ میں موجود رہتی ہیں، جہاں سبزہ، پھول اور تتلیاں انہیں ذہنی سکون فراہم کرتی ہیں۔
پشاور کی خواتین کے لیے شاہی باغ ایک پُرسکون مقام بن چکا ہے، جہاں وہ مصروف زندگی، گھریلو ذمہ داریوں اور روزمرہ کے دباؤ سے کچھ دیر کے لیے دور رہ سکتی ہیں۔ سردیوں میں باغ کی دھوپ خوشگوار محسوس ہوتی ہے، جبکہ گرمی کے موسم میں دھوپ سے بچاؤ کے لیے کنوپیاں لگائی گئی ہیں۔ باغ میں مالیوں نے محنت سے مختلف اقسام کے پودے لگائے ہیں، جن کی باقاعدگی سے دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
تاریخی شاہی باغ کے بارے میں مئیر پشاور زبیر علی نے بتایا کہ ماضی میں یہاں ایک شادی ہال قائم تھا، جسے سابق چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کے بعد ہٹانے کی ہدایت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ باغ کو مغلیہ طرز پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ عوام کو بہتر سہولت میسر آ سکے۔ بعد ازاں شادی ہال مسمار کر کے اس حصے کو خواتین کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔
شاہی باغ خواتین کے لیے صرف تفریح کا مقام ہی نہیں بلکہ سماجی روابط کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک ایک دوسرے سے ناواقف رہنے والی خواتین اب یہاں دوستی کے رشتے قائم کر رہی ہیں۔ علی الصبح خواتین ٹولیوں کی صورت میں اکٹھی ہو کر ناشتہ کرتی ہیں، جو نہ صرف ایک صحت مند سرگرمی ہے بلکہ مثبت سماجی میل جول کی بھی عکاس ہے۔
پشاور کی آبادی پچاس لاکھ سے زائد ہے، جن میں نصف سے زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ ایسے میں شاہی باغ کا صرف ایک حصہ خواتین کے لیے مختص کرنا ناکافی سمجھا جا رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں اسی طرز کے مزید پارکس کی ضرورت ہے۔ حیات آباد میں خواتین کے لیے ایک پارک موجود ہے، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ پشاور میں خواتین کے لیے مزید تفریحی مقامات قائم کئے جانے چاہئیں۔
