انصار یوسفزئی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اپنا 3 روزہ دورہ لاہور مکمل کر کے واپس پشاور آچکے ہیں لیکن اس دورے کی باز گشت اب تک سنائی دے رہا ہے۔
25 دسمبر کو لاہور دورے سے ایک روز قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع اللّه جان نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹرز میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا مقصد عمران خان کی طرف سے اعلان کردہ سٹریٹ موومنٹ کیلئے لاہور کے لوگوں کو پیغام دینا ہے، پی ٹی آئی کے اسیران کی فیملی سے ملاقاتیں اور پارٹی کے تنظیمی عہدیداروں سے مشاورت کرنا ہے۔
سہیل آفریدی کا دورہ لاہور پہلے ہی دن بدمزگی کا شکار ہوا، جب پنجاب اسمبلی کے احاطے میں پولیس اور خیبر پختونخوا کابینہ کے وزراء آمنے سامنے آگئے- اس دوران چند صحافیوں کے نا مناسب سوالات اور خیبر پختونخوا کابینہ کے وزراء کے غیر اخلاقی جوابات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
یہ دورہ جیسے تیسے ختم تو ہوگیا لیکن اس دورے کی چھاپ دیر تک پاکستان کی سیاست پر قائم رہے گی کیوں کہ دورے کے اختتام پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ایک احتجاجی مراسلہ ارسال کر چکے ہیں۔ جس میں دورہ لاہور کے دوران ان کے ساتھ پیش آئے واقعات کے ذمہ داروں کی تحقیقات کا مطالبہ اور آئندہ ایسے طور طریقوں سے اجتناب برتنے کا کہا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لاہور دورے کو انتہائی کامیاب قرار دے رہی ہے، جبکہ ان کے مخالف قوتیں اس دورے کو ناکام دورہ قرار دے رہی ہیں- یہ دورہ کامیاب تھا یا ناکام؟ پنجاب حکومت کے رویہ سے کیا پیغام ملا؟ اور مستقبل قریب میں لاہور سے کسی تحریک کے چلنے کا امکان ہے یا نہیں؟
ٹی این این نے اس حوالے سے سیاسی تجزیہ نگاروں سے بات کی ہے۔
" سہیل آفریدی کا دورہ لاہور: وہ وزیر اعلیٰ نہیں، سیاسی رہنما کے طور پر لاہور آئے تھے، سلمان غنی "
روزنامہ دنیا کے ایگزیکٹو گروپ ایڈیٹر اور سینئر صحافی و کالم نگار سلمان غنی کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دورہ لاہور ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک سیاسی رہنما کے طور پر تھا جس کا اظہار انہوں نے لاہور آنے سے پہلے خود بھی کردیا تھا- اب اہم سوال یہ موجود ہے کہ اگر ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ سیاسی رہنما کے طور پر سیاسی ایجنڈا لے کر دوسرے صوبے میں جائیں گے تو کیا اس صوبے کی حکومت ان کو برداشت کر پائے گی۔
جہاں تک پنجاب حکومت کے رویہ کا سوال ہے تو چند صحافیوں نے ایسے سوالات کر دیئے جو نہیں ہونے چاہئے تھے لیکن ان کے جواب میں جو کہا گیا وہ بھی اچھا نہیں تھا لہٰذا اس دو طرفہ عمل سے سیاست اور جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے۔
" پنجاب حکومت خوف کا شکار تھی: پیغام اچھا نہیں دیا، عمر دراز گوندل "
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کرنے والے صحافیوں کے وفد میں شامل صحافی و تجزیہ نگار عمر دراز گوندل کے مطابق سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے موقع پر پنجاب حکومت کے رویہ نے اچھا پیغام نہیں دیا- بقول ان کے، پنجاب حکومت سہیل آفریدی کے دورہ لاہور سے خوف کا شکار تھی کہ سہیل آفریدی آئیں گے، لوگ نکل آئیں گے اور سیاسی سرگرمی ہوگی، اگر انہیں یہ یقین نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی جگہ جگہ پر رکاوٹیں کھڑی نہ کرتی۔
ان کے مطابق ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کا دوسرے صوبے میں جس طرح ویلکم ہونا چاہئے تھا، وہ نہ ہوا، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جس طرح ایک ٹویٹ کے ذریعے بلاول بھٹو کو دورہ لاہور کے موقع پر ویلکم کیا تھا، اسی طرح سہیل آفریدی کو بھی کیا جا سکتا تھا۔
" سہیل آفریدی کا دورہ لاہور: فی الحال پنجاب میں پی ٹی آئی کیلئے سپیس نہیں، لحاظ علی "
خیبر پختونخوا کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے اے ایف پی سے وابستہ سینئر صحافی لحاظ علی کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو لاہور دورے کے موقع پر پنجاب حکومت کے طرز عمل سے واضح پیغام دیدیا گیا کہ فی الحال پی ٹی آئی کیلئے پنجاب میں کوئی جگہ نہیں ہے- یہاں تک کہ جب علی امین گنڈاپور بطور وزیر اعلیٰ لاہور کے دورے پر جا رہے تھے، تو ان کو بھی میسج پہنچا دیا گیا تھا کہ آپ لاہور ضرور آئیں لیکن یہاں پر کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہوگی اور پھر عین مطابق وہاں کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہوئی۔
" سہیل آفریدی کا دورہ لاہور: مقاصد کیا تھے؟ "
سلمان غنی کے مطابق سہیل آفریدی کے لاہور دورے کا بنیادی مقصد پنجاب اور لاہور کی سیاست میں جان ڈالنا تھا اور وہ اس میں وقتی طور پر کامیاب بھی ہوئے لیکن ابھی صرف ایک سرسراہٹ ہوئی ہے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ پی ٹی آئی کو یہاں پر کھڑی کر کے گئے ہیں- جہاں تک سٹریٹ موومنٹ کے لاہور سے چلنے کی بات ہے تو اس حوالے سے سلمان غنی نے قرار دیا کہ ایسا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔
اس کیلئے وہ یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ پنجاب پر اس وقت مریم نواز کی گرفت مضبوط ہے، انتظامیہ اور بیوروکریسی ان کے کنٹرول میں ہے لہٰذا وہ کسی ایسے عمل کو پنپنے نہیں دیں گے ، جس سے سٹریٹ موومنٹ کا خدشہ ہو۔ اس وقت پی ٹی آئی کا سارا دارومدار صرف خیبر پختونخوا پر ہے جہاں ان کی حکومت ہے۔ لیکن اگر صرف ایک صوبے میں تحریک چلے گی جہاں ان کی حکومت ہے تو وہ تحریک قومی پذیرائی سے محروم رہے گی اور وہ کامیابی سے دوچار نہیں ہوگی۔
عمر دراز گوندل کے مطابق سہیل آفریدی کے لاہور دورے کا مقصد یہ تھا کہ تحریک انصاف یہ ٹیسٹ کرنا چا رہی تھی کہ اگر سہیل آفریدی کو آگے لایا جائے تو کیا اس کے ذریعے سیاسی جمود کو توڑا جا سکتا ہے یا نہیں، کیا وہ مزاحمت کی علامت بن سکتے ہیں اور لوگوں کو باہر نکال سکتے ہیں یا نہیں- جہاں تک لاہور سے سٹریٹ موومنٹ کی تحریک چلنے کی بات ہے تو ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا لیکن اس کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ سہیل آفریدی کے صرف ایک دورہ لاہور نے سیاسی منظر نامے پر بڑا اثر ڈال دیا۔
" سہیل آفریدی کا دورہ لاہور: مراد سعید کے حکم سے ہوا، لحاظ علی "
سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے پیچھے مقاصد پر بات کرتے ہوئے لحاظ علی نے قرار دیا کہ ان کے ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے یہ اہم دورہ پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید کے کہنے پر کیا جس کا بظاہر مقصد تو سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کا تھا لیکن اس دورے سے در اصل یہ معلوم کرنا تھا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کیلئے کوئی سیاسی سپیس باقی ہے یا نہیں، دوسرا خیبر پختونخوا حکومت پنجاب حکومت کو بد نام کرنا چاہتی تھی کہ ایک صوبائی حکومت دوسری صوبائی حکومت سے کیسا برتاؤ کرتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو دہرانے کیلئے جواز فراہم کیا جا سکے۔
" سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کے دورہ لاہور میں فرق کیا رہا ؟ "
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور موجودہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کا موازنہ کرتے ہوئے عمر دراز گوندل نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کا دورہ بڑا مختصر نوعیت کا ہوتا اور پارٹی کے تنظیمی امور تک محدود ہوتا اور دوسرا وہ عوامی مقامات پر جانے سے گریز کرتے تھے جبکہ سہیل آفریدی اپنے دورہ میں عوام سے ملنا چاہتے تھے، وہ مارکیٹوں اور بازاروں میں نکل کر عام آدمی کے پاس جانا چاہتے تھے، اور ان کا ایک خاص مقصد ہے جس کیلئے وہ آئے تھے۔
سلمان غنی کے خیال میں دونوں کے دورے میں ایک بڑا بنیادی فرق تھا، علی امین گنڈاپور ایک وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے آئے تھے اور انہوں نے خود کو رائے ونڈ میں مرزا آفریدی کے فارم ہاؤس تک محدود رکھا تھا جبکہ سہیل آفریدی کا دورہ ایک سیاسی حیثیت سے تھا، انہوں نے سیاست کرنے کی کوشش کی لیکن وہ در اصل خیبر پختونخوا یا پاکستان کے عوام کے سامنے نہیں بلکہ اڈیالہ جیل کے سامنے سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔
