ضلع مہمند کے سب سے بڑے تجارتی و عوامی مرکز میاں منڈی بازار میں ہفتے کے روز پاک فوج کے حق میں ایک بڑا عوامی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے افغانستان کی سرحد پار دراندازی اور دہشت گردوں کی سرپرستی کی شدید مذمت کی اور افواج پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی ہر مشکل گھڑی میں مدد کی اور چالیس سال تک لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی، مگر بدقسمتی سے افغانستان نے پاکستان کے احسانات کو نظر انداز کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ افغان حکومت بھارتی حمایت یافتہ ہے اور پاکستانی مخالف عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہی ہے، جو پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاک افغان سرحدی کشیدگی، پشاور میں ہائی سیکیورٹی الرٹ نافذ
مقررین نے مزید کہا کہ پاکستان نے متعدد بار افغان حکومت کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے ثبوت فراہم کیے، مگر افغان حکومت نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ حالیہ افغان طالبان رژیم کی سرحد پار حملوں کے بعد پاکستان کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
قبائلی مشران نے واضح کیا کہ مہمند قبائل افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہر قربانی کے لیے تیار ہیں اور ملک کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
انہوں نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور تمام معاملات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔
مظاہرین کی ریلی ملک ریحان شاہ حجرہ سے کوز مسجد تک جاری رہی، جس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس افسران، سرکردہ قبائلی مشران اور علاقے کے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر ملک صاحب داد حلیمزئی، نوابزادہ ملک نادر منان مہمند، ملک موسم خان، ملک اسرائیل صافی، ملک محراب دین، اور پی پی پی کے رہنما ڈاکٹر عالمزیب خان سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
