عظمیٰ اقبال
سوات جو کبھی اپنی طویل اور سخت سردیوں، مسلسل برفباری اور ٹھنڈے چشموں کی وجہ سے مشہور تھا، اب وہاں موسم کا مزاج تیزی سے بدل رہا ہے۔
سردیوں کا دورانیہ کم ہو رہا ہے، برفباری میں واضح کمی آ رہی ہے اور اس کے اثرات زراعت، پانی کے ذخائر اور مقامی معیشت پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ موسم کی یہی تبدیلی ان کی فصلوں اور باغات کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ ماہرین اس صورتحال کو عالمی موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
اس حوالے سے ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر ثناء اللہ، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ماحولیاتی سائنس یونیورسٹی آف سوات، کے مطابق متعدد سائنسی مطالعات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ شمالی پاکستان بشمول سوات میں سردیوں کا دورانیہ کم ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں خطے کے درجہ حرارت میں اضافہ، مغربی ہواؤں کے نظام میں تبدیلی، برفباری میں کمی اور فضا میں آلودگی شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تمام عوامل عالمی موسمیاتی تبدیلی سے جڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں سردیاں مختصر اور نسبتاً کم سرد ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سوات کی نایاب نواب مچھلی: 2022 کے سیلاب کے بعد سوات کی مشہور ٹراؤٹ فش فارمنگ زوال کا شکار
ڈاکٹر ثناء اللہ کے مطابق سردیوں میں کمی کے اثرات پانی، زراعت اور قدرتی نظام تک پھیل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برفباری میں کمی کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے دریاؤں کے بہاؤ کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ ابتدا میں پانی کی مقدار زیادہ محسوس ہوتی ہے لیکن طویل مدت میں پانی کی دستیابی کم ہونے کا خدشہ ہے۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ گندم جیسی فصلوں اور سیب، آڑو اور خوبانی جیسے پھلدار درختوں کو مناسب نشوونما کے لیے مخصوص سردی درکار ہوتی ہے۔ جب یہ سردی کم ہو جائے تو پیداوار متاثر ہوتی ہے اور زرعی نظام غیر متوازن ہو جاتا ہے۔
سوات کے مقامی لوگ بھی اس تبدیلی کو اپنی زندگی میں واضح طور پر محسوس کر رہے ہیں۔ 46 سالہ ہدیہ کے مطابق موجودہ موسم ان کے بچپن کے موسم سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے سوات میں سردیاں بہت لمبی ہوتی تھیں۔
دسمبر سے لے کر مارچ تک برفباری ہوتی تھی اور بارشیں کئی کئی دن مسلسل جاری رہتی تھیں۔ کبھی سات دن تو کبھی دس دن تک بارش نہیں رکتی تھی، مگر اب نہ وہ برف رہی ہے اور نہ ویسی بارشیں ہوتی ہیں۔
ہدیہ مزید بتاتی ہیں کہ پہلے گرمی صرف جولائی اور اگست میں ہوتی تھی اور اس وقت بھی پنکھے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی کیونکہ ماحول ٹھنڈا ہوتا تھا۔ اب اگر فروری میں بارش نہ ہو تو گرمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ ان کے مطابق پہلے علاقے میں کئی چشمے تھے جن کا پانی بہت ٹھنڈا ہوتا تھا لیکن اب وہ یا تو خشک ہو چکے ہیں یا پہلے جیسے نہیں رہے، جس کی وجہ سے پانی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔
سوات میں سردیوں کا کم ہونا صرف درجہ حرارت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے بارشوں کے اُس قدرتی نظام کو بھی متاثر کیا ہے جس پر یہاں کی زراعت کا انحصار ہوتا ہے۔ ماضی میں سردیوں کی طویل بارشیں زمین میں نمی برقرار رکھتی تھیں اور فصل اپنی قدرتی رفتار سے نشوونما پاتی تھی، لیکن اب بارشوں کا دورانیہ کم ہو گیا ہے اور ان کی ترتیب غیر یقینی ہو چکی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اسی تبدیلی نے کاشتکاری کو پہلے سے زیادہ مشکل اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔
سوات کے علاقے عالم گنج سے تعلق رکھنے والے کسان شمشیر علی کے مطابق پہلے سردیوں میں بارشیں زیادہ اور طویل عرصے تک ہوتی تھیں جس سے زمین میں نمی برقرار رہتی تھی اور فصل کے لیے الگ سے زیادہ پانی دینے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اب سردیاں چھوٹی ہو گئی ہیں اور بارشیں بھی کم ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے زمین جلد خشک ہو جاتی ہے اور فصل کمزور رہتی ہے۔
شمشیر علی مزید کہتے ہیں کہ سب سے بڑا مسئلہ بے موسمی بارش ہے۔ اگر بارش نہ ہو تو فصل سوکھ جاتی ہے اور اگر کٹائی کے قریب بارش یا ژالہ باری ہو جائے تو پوری فصل خراب ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق آڑو اور خوبانی کے باغات بھی متاثر ہوئے ہیں کیونکہ درختوں کو پہلے جیسی سردی نہیں ملتی جس سے پھل کم لگتے ہیں اور آمدنی میں کمی آ گئی ہے۔
پانی کی کمی کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ پہلے کھیتوں کے قریب چشمے بہتے تھے اور پانی کی کوئی کمی نہیں تھی، لیکن اب کئی چشمے خشک ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے فصلوں کو بروقت پانی نہیں ملتا اور نقصان ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کے اثرات صرف فصلوں تک محدود نہیں بلکہ جنگلی حیات اور نباتات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر ثناء اللہ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث پہاڑی علاقوں میں پودوں اور نباتات کے قدرتی نظام میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔
کئی پودے جو ٹھنڈے ماحول میں نشوونما پاتے تھے اب ان کے لیے حالات سازگار نہیں رہے جس سے بعض نایاب نباتات اور پھولوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔ اسی طرح جنگلی حیات کے مسکن متاثر ہو رہے ہیں اور کئی انواع کو اونچے علاقوں کی طرف منتقل ہونا پڑ رہا ہے جس سے ماحولیاتی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور طویل مدتی پالیسی اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق حکومت اور متعلقہ اداروں کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسی بنانی ہوگی جس میں جنگلات کا تحفظ، بڑے پیمانے پر شجرکاری، پانی کے ذخائر کا بہتر انتظام اور موسمیاتی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہونا چاہیے۔
اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق زراعت کو فروغ دینا اور پہاڑی علاقوں کی پائیدار ترقی کے لیے جامع منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں خطرات کو کم کیا جا سکے۔
سوات میں بدلتا ہوا موسم اب صرف ایک موسمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ماحولیاتی اور معاشی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ سردیوں کے کم ہوتے دورانیے نے نہ صرف کسانوں کی فصلوں اور باغات کو متاثر کیا ہے بلکہ پانی، نباتات اور قدرتی ماحول کے توازن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بروقت اور مؤثر پالیسیاں نہ بنائی گئیں تو آنے والے برسوں میں اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
