باجوڑ میں مسیحی برادری: چار دہائیوں کا حصہ
خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں آباد مسیحی برادری گزشتہ چار دہائیوں سے اس خطے کا حصہ ہے۔ زیادہ تر محنت کش اور کم آمدن طبقے سے تعلق رکھنے والی یہ برادری، اپنی روزمرہ زندگی، روزگار اور سماجی روابط میں مکمل طور پر باجوڑ سے جڑی ہوئی ہے۔
مگر بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک حق، یعنی باعزت تدفین، سے یہ کمیونٹی آج بھی محروم ہے، کیونکہ ضلع میں مسیحی قبرستان موجود نہیں۔
موت کے بعد مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں
کسی عزیز کی وفات پر خاندانوں کو میت کو ڈیڑھ سو کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع نوشہرہ لے جانا پڑتا ہے۔ وہاں موجود قبرستان میں تدفین کے لیے اجازت حاصل کرنا، اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر اخراجات کا بندوبست کرنا، غریب خاندانوں کے لیے شدید مالی اور ذہنی دباؤ پیدا کرتا ہے۔
انتظامی پیچیدگیاں اور وسائل کی کمی، غم کے لمحات میں مزید اذیت بن جاتی ہیں، اور کمیونٹی کے لیے یہ ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔
جمیل مسیح: قبرستان کی عدم دستیابی ایک مستقل اذیت
باجوڑ کی مسیحی برادری کے سابقہ جنرل سیکرٹری، جمیل مسیح، کے مطابق ضلع میں تقریباً 150 مسیحی خاندان کئی دہائیوں سے آباد ہیں، مگر انہیں اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے بنیادی سہولیات میسر نہیں۔
“چرچ کا مسئلہ حل ہوا، مگر قبرستان کا مسئلہ آج بھی برقرار ہے۔ جب کمیونٹی میں کوئی فوت ہو جائے، تو قبرستان نہ ہونے کا کرب غم کے ساتھ ساتھ ایک اور اذیت بن جاتا ہے۔”
حال ہی میں کمیونٹی کے ایک فرد، ولسن مسیح، کی وفات کے موقع پر تدفین کے لیے نوشہرہ لے جانا پڑا، جہاں اجازت لینا بھی آسان نہیں تھا۔
اقلیتی کوٹے میں بدعنوانی
کمیونٹی کے ایک اور ذمہ دار، پرویز مسیح، نے کہا کہ قبرستان کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ اقلیتی برادری کے لیے مختص کوٹہ سسٹم بھی مبینہ طور پر بدعنوانی کا شکار ہے۔
“اقلیتی کوٹے پر ایسے افراد بھرتی ہوئے جو کمیونٹی سے تعلق نہیں رکھتے، بلکہ جان پہچان اور سفارش کے تحت شامل کیے گئے۔ یہ آئین کی صریح خلاف ورزی ہے اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔”
انسانی وقار کا قومی مسئلہ
اقلیتی حقوق کے سرگرم کارکن، ہارون سربدیال، کے مطابق قبرستان اور شمشان گھاٹ کی کمی صرف باجوڑ یا خیبر پختونخوا کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک قومی نوعیت کا انسانی وقار سے جڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2008 میں سندھ میں ایک ہندو شہری کی میت کی بے حرمتی اور اسلام آباد میں غیر ملکی سفارتکار کی ہندو رسومات میں مشکلات نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
فنڈز مختص مگر منصوبے ادھورے
سربدیال کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہندو، سکھ اور مسیحی برادریوں کے لیے قبرستان اور شمشان گھاٹ کے قیام کے لیے ایک ارب تیرہ کروڑ روپے تک مختص کیے گئے، مگر زمین کی عدم دستیابی، سیکیورٹی خدشات، سیاسی مداخلت اور مبینہ کرپشن کی وجہ سے یہ منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔
“مقامی آبادی کے ساتھ مشاورت کے ذریعے یہ سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ سماجی ہم آہنگی برقرار رہے۔”
انتظامیہ کا مؤقف
باجوڑ کی مقامی انتظامیہ کے مطابق ضلع میں اقلیتی برادری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر سنے اور حل کیے جا رہے ہیں۔ چرچ کا مسئلہ حل ہو چکا ہے اور اس کا افتتاح اقلیتی رکنِ صوبائی اسمبلی، ولسن وزیر، نے کیا۔
قبرستان کے حوالے سے انتظامیہ نے کہا کہ پچاس لاکھ روپے مختص کیے جا چکے ہیں، اور موزوں جگہ کی نشاندہی کے بعد زمین خرید کر کمیونٹی کے حوالے کر دی جائے گی، تاکہ یہ دیرینہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہو سکے۔
سرکاری دعوؤں کے باوجود باجوڑ کی مسیحی برادری آج بھی اپنے پیاروں کو باعزت طریقے سے دفنانے کے حق سے محروم ہے۔ یہ صورتحال اقلیتی حقوق، انسانی وقار، سماجی مساوات اور آئینی وعدوں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔
سوال اب بھی قائم ہے: کب قبائلی اضلاع میں بسنے والی اقلیتی برادریوں کو زندگی کے ساتھ ساتھ موت کے بعد بھی وہ وقار نصیب ہوگا، جس کا وعدہ آئینِ پاکستان کرتا ہے؟
