خولہ زرافشاں
جب بھی فرنیچر خریدنے کی بات کی جاتی ہے تو سب سے پہلے مردان کا نام ذہن میں آتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ہر ضلعے اور شہر سے لوگ فرنیچر کی خریداری کے لیے مردان کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ پنجاب اور دیگر صوبوں کے لوگ بھی مردان کا تیار کردہ فرنیچر پسند کرتے اور خریدتے ہیں۔
لوگ نہ صرف گھروں کے لیے بلکہ دکاندار اور شوروم مالکان بھی مردان سے تیار فرنیچر خرید کر اپنے علاقوں میں فروخت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مردان پورے خطے میں فرنیچر کی ایک بڑی منڈی کے طور پر جانا جاتا ہے۔
مردان میں فرنیچر سازی کا کام کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ یہ ہنر نسل در نسل منتقل ہوتا آ رہا ہے۔ یہاں کے کاریگر لکڑی کے کام میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں، جس کی بدولت مردان آہستہ آہستہ خیبر پختونخوا کا فرنیچر سازی کا مرکز بن گیا ہے۔
دیگر شہروں کے مقابلے میں مردان میں فرنیچر نسبتاً سستے داموں دستیاب ہوتا ہے۔ چونکہ یہاں کاریگروں اور شورومز کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے مقابلہ بھی زیادہ ہے جس کے باعث قیمتیں کنٹرول میں رہتی ہیں۔ یہاں صرف کم قیمت ہی نہیں بلکہ معیار بھی نمایاں ہے۔
مردان میں عام طور پر دیار، شیشم اور کیکر کی لکڑی استعمال کی جاتی ہے، جو مضبوطی اور پائیداری کے لیے مشہور ہیں۔ انہی لکڑیوں کی وجہ سے یہاں تیار ہونے والا فرنیچر مضبوط اور دیرپا ہوتا ہے۔
یہاں کے ماہر کاریگر بیڈ، صوفہ سیٹ، الماریاں، ڈائننگ ٹیبل اور جدید ڈیزائنر فرنیچر نہایت مہارت اور نفاست سے تیار کرتے ہیں۔ مردان میں روایتی کے ساتھ ساتھ جدید اور ماڈرن فرنیچر بھی بڑی تعداد میں بنایا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں مردان کے فرنیچر شورومز نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال شروع کر دیا ہے۔ کاریگر اور دکاندار اپنے شورومز اور فرنیچر کی ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر اپلوڈ کرتے ہیں، جنہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے۔ انہی ویڈیوز کے ذریعے لوگ فرنیچر پسند کر کے آرڈر بھی دیتے ہیں۔
مردان میں درجنوں نہیں بلکہ ہزاروں فرنیچر شورومز موجود ہیں، جس کی وجہ سے خریدار کو اپنی پسند کا فرنیچر باآسانی مل جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ڈیلیوری کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے، جو گاہکوں کے لیے مزید آسانی پیدا کرتی ہے۔
ہر دو سال بعد آل کارپنٹر ایسوسی ایشن کے صدر کے انتخاب کے لیے الیکشن منعقد ہوتے ہیں۔ مارکیٹ کے صدر محمد آیاز، جن کی عمر 52 سال ہے، کا کہنا ہے کہ مردان میں فرنیچر نہ صرف سستا بلکہ اعلیٰ معیار کا ہوتا ہے۔ مضبوط جوڑ، نفیس فنشنگ اور معیاری لکڑی کی وجہ سے یہ فرنیچر سالہا سال چلتا ہے۔
محمد آیاز کے مطابق خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع سے لوگ مردان آ کر فرنیچر خریدتے ہیں۔ یہاں کے کاریگر دن بدن نئے اور جدید ڈیزائن متعارف کرا رہے ہیں، جس سے یہ کاروبار تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ پہلے دکانوں کی تعداد ڈھائی سے تین سو تھی، جبکہ اب یہ تعداد دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
سردیوں میں شادیوں کے سیزن کے باعث فرنیچر کی مانگ میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس دوران کاریگر دن کے ساتھ ساتھ رات گئے تک کام کرتے ہیں تاکہ آرڈرز بروقت مکمل کیے جا سکیں۔
70 سالہ دکاندار جاوید خان کے مطابق انہوں نے 1980 کی دہائی میں یہ کاروبار شروع کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت 1500 روپے میں ملنے والا فرنیچر سیٹ آج تین لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ جدید تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اب لکڑی کے ساتھ فائبر اور لاسانی جیسے مصنوعی میٹریل کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
جاوید خان کے مطابق آج کل لوگ آن لائن بھی فرنیچر آرڈر کرتے ہیں، تاہم آن لائن قیمتیں عام مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں۔ مردان میں گاہک خود آ کر فرنیچر دیکھتا ہے، اپنی پسند کے مطابق ڈیزائن، رنگ اور کپڑا منتخب کرتا ہے اور مکمل اطمینان کے بعد آرڈر دیتا ہے۔ جب تک گاہک مطمئن نہ ہو، رقم وصول نہیں کی جاتی۔
مہنگائی کے باوجود فرنیچر کی مانگ میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ لوگ گھروں، دفاتر اور شادی ہالز کے لیے بڑی تعداد میں فرنیچر خرید رہے ہیں۔ اس وقت فرنیچر کی قیمتیں ڈیڑھ لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک ہیں۔
اگر سستے دام، مضبوط لکڑی، نفیس کام اور دیرپا معیار کو پیمانہ بنایا جائے تو مردان کا فرنیچر واقعی خیبر پختونخوا میں بہترین مانا جاتا ہے۔ مردان کا فرنیچر صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک ثقافت اور ہنر کی علامت ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ صنعت دن بدن ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہی ہے۔
